کراچی میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سینئر رہنما مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ سانحہ بلدیہ ٹاؤن کیس میں آنے والا حالیہ عدالتی فیصلہ ان کے نظریے اور مؤقف کی جیت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ابتدا ہی سے اس معاملے پر ایک واضح مؤقف رکھتے تھے اور وقت گزرنے کے ساتھ حقائق سامنے آ گئے ہیں۔
سانحہ بلدیہ ٹاؤن اور عدالتی فیصلہ
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے تین سال بعد ایم کیو ایم اور اس کے کارکنوں کو اس واقعے کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا، تاہم وہ پہلے دن سے یہ کہتے رہے کہ ایک نہ ایک دن حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی۔ ان کے مطابق حالیہ عدالتی فیصلے نے ثابت کیا ہے کہ اس سانحے کے حوالے سے ان کا مؤقف درست تھا۔
انہوں نے ان خاندانوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے اس افسوسناک سانحے میں اپنے عزیزوں کو کھویا۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاندانوں نے عدالتی فیصلے کو قبول کرتے ہوئے اس مؤقف کو تسلیم کیا کہ فیکٹری میں لگنے والی آگ مالکان کی مجرمانہ غفلت کا نتیجہ تھی۔
ایم کیو ایم کی سیاسی جدوجہد پر اظہار خیال
پریس کانفرنس کے دوران مصطفیٰ کمال نے ایم کیو ایم کی سیاسی تاریخ اور اپنی جماعتی جدوجہد پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ جب انہیں محسوس ہوا کہ جماعت کی سابقہ قیادت ان کے خیال میں قوم کے مسائل حل کرنے میں کامیاب نہیں ہو رہی تو انہوں نے اختلافِ رائے کا راستہ اختیار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے بغاوت ضرور کی لیکن غداری نہیں کی، اور آج جو سیاسی جماعت موجود ہے، وہی اصل ایم کیو ایم ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیاست کا مقصد عوامی مسائل کا حل اور شہری حقوق کا تحفظ ہونا چاہیے۔
ہم نے تیسری عالمی جنگ روکی، یہ کامیابی غیر معمولی ہے: مصطفیٰ کمال
پارٹی قیادت اور احتساب کے حوالے سے مؤقف
مصطفیٰ کمال نے پارٹی کے اندر احتساب اور قیادت کے کردار پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی منتخب نمائندے یا عہدیدار کے خلاف الزامات سامنے آئیں تو جماعت کو فوری اور مؤثر کارروائی کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق سیاسی جماعتوں کی ساکھ اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے جب وہ اپنے اندر احتساب کا مضبوط نظام قائم کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی سیاسی رہنما کے لیے مضبوط کردار اور عوامی اعتماد بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق جو قیادت اخلاقی اعتبار سے مضبوط نہ ہو، وہ عوام کے حقوق اور مسائل کا مؤثر انداز میں مقدمہ نہیں لڑ سکتی۔
سانحہ بلدیہ ٹاؤن کی اہمیت
واضح رہے کہ سانحہ بلدیہ ٹاؤن پاکستان کی تاریخ کے بدترین صنعتی حادثات میں شمار ہوتا ہے۔ اس واقعے میں سیکڑوں مزدور جان کی بازی ہار گئے تھے، جس کے بعد کئی برس تک قانونی کارروائیاں اور تحقیقات جاری رہیں۔ حالیہ عدالتی فیصلے کے بعد اس مقدمے پر سیاسی اور قانونی حلقوں میں ایک بار پھر بحث شروع ہو گئی ہے، جبکہ مختلف سیاسی رہنما بھی اس حوالے سے اپنے اپنے مؤقف کا اظہار کر رہے ہیں۔
