سانحہ بلدیہ ٹاؤن کیس میں اہم پیش رفت، سپریم کورٹ نے رحمان بھولا اور زبیر چریا کو بری کر دیا

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے دو ملزمان، عبدالرحمان عرف بھولا اور زبیر عرف چریا، کو بری کر دیا ہے۔ عدالت نے ٹرائل کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزائے موت کو کالعدم قرار دیتے ہوئے دونوں ملزمان کی اپیلیں منظور کر لیں۔

latest urdu news

یہ فیصلہ جسٹس Shahzad Malik کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے سنایا، جس نے کیس کی سماعت کے بعد ملزمان کے خلاف سابقہ عدالتی فیصلوں کو برقرار نہ رکھنے کا حکم دیا۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ

سپریم کورٹ میں سانحہ بلدیہ ٹاؤن سے متعلق اپیلوں کی سماعت کے دوران عدالت نے عبدالرحمان عرف بھولا اور زبیر عرف چریا کے مقدمات کا جائزہ لیا۔ سماعت کے بعد عدالت نے قرار دیا کہ دونوں ملزمان کی اپیلیں منظور کی جاتی ہیں اور ان کے خلاف سزائے موت کے فیصلے کالعدم قرار دیے جاتے ہیں۔

عدالت کے فیصلے کے بعد دونوں ملزمان قانونی طور پر بری ہو گئے ہیں۔

ایم کیو ایم کی درخواست بھی نمٹا دی گئی

سماعت کے دوران عدالت نے Muttahida Qaumi Movement (ایم کیو ایم) کی جانب سے عدالتی ریمارکس حذف کرنے کی درخواست پر بھی فیصلہ دیا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ چونکہ اصل فیصلہ ہی کالعدم قرار دیا جا چکا ہے، اس لیے اس فیصلے میں دیے گئے ریمارکس بھی خود بخود غیر مؤثر ہو چکے ہیں۔ اسی بنیاد پر عدالت نے درخواست کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے نمٹا دیا۔

کراچی کے بلدیہ ٹاؤن میں دل دہلا دینے والا واقعہ: سابقہ بیوی اور دو بچوں کا قتل

سانحہ بلدیہ ٹاؤن کیا تھا؟

سانحہ بلدیہ ٹاؤن پاکستان کی صنعتی تاریخ کے المناک ترین واقعات میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ واقعہ ستمبر 2012 میں کراچی کے بلدیہ ٹاؤن میں واقع ایک گارمنٹس فیکٹری میں پیش آیا تھا، جہاں لگنے والی آگ کے نتیجے میں سینکڑوں افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔

اس سانحے کے بعد مختلف مراحل میں تحقیقات، عدالتی کارروائیاں اور مقدمات چلتے رہے، جبکہ اس کیس نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر بھی خاصی توجہ حاصل کی۔

قانونی ماہرین کی نظر میں فیصلہ

قانونی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ اس مقدمے میں ایک اہم عدالتی پیش رفت ہے۔ عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے سزائے موت کالعدم قرار دیے جانے کے بعد کیس کے دیگر قانونی اور تاریخی پہلوؤں پر بھی بحث جاری رہنے کا امکان ہے۔

کیس پر سیاسی اور عوامی توجہ

سانحہ بلدیہ ٹاؤن کا مقدمہ کئی برسوں سے پاکستان کے اہم ترین مقدمات میں شمار ہوتا رہا ہے۔ اس لیے سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں، قانونی ماہرین اور متاثرہ خاندانوں کی نظریں اس کیس کی آئندہ قانونی اور انتظامی پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سپریم کورٹ کے فیصلے نے ایک بار پھر اس تاریخی مقدمے کو قومی بحث کا موضوع بنا دیا ہے، جبکہ فیصلے کی تفصیلی وجوہات سامنے آنے کے بعد مزید قانونی نکات بھی واضح ہونے کی توقع ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter