کوئٹہ میں تیزاب گردی کا نشانہ بننے والی خاتون ڈاکٹر کا کراچی کے ایک نجی اسپتال میں تفصیلی طبی معائنہ مکمل کر لیا گیا ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق متاثرہ ڈاکٹر کی حالت تسلی بخش ہے اور وہ خطرے سے باہر ہیں، تاہم انہیں مزید نگرانی اور علاج کے لیے اسپیشل کیئر یونٹ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
طبی معائنہ اور موجودہ صورتحال
اسپتال ذرائع کے مطابق متاثرہ خاتون ڈاکٹر کا معائنہ ری کنسٹرکٹیو سرجن اور ماہرِ چشم نے کیا۔ ابتدائی طبی جائزے میں معلوم ہوا ہے کہ ان کے چہرے، پیٹ، ٹانگ اور دائیں ہاتھ پر جلنے کے زخم موجود ہیں۔ ڈاکٹروں نے مختلف ٹیسٹ اور ابتدائی معائنے مکمل کرنے کے بعد مریضہ کی مجموعی حالت کو اطمینان بخش قرار دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ خاتون ڈاکٹر کے جسم کا تقریباً 13 فیصد حصہ تیزاب سے متاثر ہوا ہے۔ اگرچہ ان کی آنکھیں بھی حملے سے متاثر ہوئیں، تاہم خوش آئند امر یہ ہے کہ ان کی بینائی محفوظ ہے اور اس حوالے سے کوئی سنگین پیچیدگی سامنے نہیں آئی۔
آئندہ 24 گھنٹوں میں دوبارہ معائنہ
معالجین کے مطابق متاثرہ ڈاکٹر کی حالت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور آئندہ 24 گھنٹوں کے بعد ان کا دوبارہ تفصیلی طبی معائنہ کیا جائے گا۔ اس دوران زخموں کی شدت، جلد کی بحالی کے عمل اور ممکنہ سرجری کی ضرورت کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ تیزاب سے متاثرہ مریضوں کے علاج میں ابتدائی چند دن انتہائی اہم ہوتے ہیں، کیونکہ اسی دوران انفیکشن، سوجن اور دیگر طبی پیچیدگیوں کے امکانات کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔
حملہ کیسے پیش آیا؟
یاد رہے کہ یہ افسوسناک واقعہ کوئٹہ کے سنڈیمن اسپتال میں پیش آیا تھا، جہاں ایک شخص نے خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینک دیا تھا۔ حملے کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئی تھیں۔
واقعے کے فوراً بعد متاثرہ ڈاکٹر کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جس کے بعد انہیں علاج کے لیے ایک نجی اسپتال منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں بہتر طبی سہولیات اور خصوصی علاج کی فراہمی کے لیے ائیر ایمبولینس کے ذریعے کراچی منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
واقعے نے طبی برادری اور عوامی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے، جبکہ متاثرہ ڈاکٹر کی جلد صحت یابی کے لیے دعاؤں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
