وزیر دفاع خواجہ آصف نے آزاد کشمیر انتخابات سے قبل مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں کے خاتمے کے مطالبے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے انتخابی عمل پر اثرانداز ہونے کی کوشش قرار دیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ انتخابات سے عین قبل مہاجرین کی نشستیں ختم کرنے کا مطالبہ غیر آئینی ہے اور اسے سیاسی دباؤ یا بلیک میلنگ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے مطالبات جمہوری عمل کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔
وزیر دفاع نے مطالبہ کرنے والوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے مؤقف کو عوام کے سامنے رکھیں اور 27 جولائی کو ہونے والے انتخابات میں ووٹرز کو فیصلہ کرنے دیں۔ ان کے مطابق عوامی رائے ہی کسی بھی سیاسی مطالبے کی اصل کسوٹی ہوتی ہے۔
خواجہ آصف نے وضاحت کی کہ "مہاجر” سے مراد وہ کشمیری ہیں جو مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کرکے پاکستان میں آباد ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کی پہلی کابینہ میں بھی مہاجر کشمیری نمائندگی موجود تھی اور اس کی تاریخی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
پی ٹی آئی میں ہزاروں اختلافات، مگر عمران خان کے اندر رہنے پر مکمل اتفاق: خواجہ آصف
انہوں نے مزید کہا کہ مرحوم مقبول بٹ نے بھی مہاجر نشست پر انتخاب میں حصہ لیا تھا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ نشستیں کشمیریوں کی سیاسی نمائندگی کا اہم حصہ رہی ہیں۔ ان کے مطابق مقبوضہ کشمیر، آزاد کشمیر اور پاکستان میں آباد کشمیری ایک ہی قوم کا حصہ ہیں اور ان کے درمیان کسی قسم کی تفریق نہیں ہونی چاہیے۔
واضح رہے کہ آزاد کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اپنے مطالبات کے حق میں 9 جون کو ہڑتال اور لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ حکومت اور کمیٹی کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، تاہم اب تک کسی حتمی پیش رفت کا اعلان سامنے نہیں آیا۔
