ایرانی قیادت کے مشیر محسن رضائی نے واضح کیا ہے کہ موجودہ حالات میں مجتبیٰ خامنہ ای اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان کسی ملاقات کا کوئی امکان نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کی پالیسیوں نے دونوں ممالک کے درمیان مذاکراتی عمل کو سست کر دیا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں محسن رضائی نے کہا کہ امریکا اگر ایران کے ساتھ تعلقات میں بہتری چاہتا ہے تو اسے دباؤ اور پابندیوں کی پالیسی ترک کرنا ہوگی۔ ان کے مطابق مثبت اور عملی اقدامات ہی دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا قائم کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کو ذاتی سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر امریکی عوام کے وسیع تر مفادات کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر امریکا ایران کے منجمد اثاثے بحال کرے اور اقتصادی پابندیوں میں نرمی لائے تو تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ممکن ہو سکتا ہے۔
محسن رضائی نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان موجود پیچیدہ تنازعات کو حل کرنے کے لیے سیاسی عزم اور سفارتی سنجیدگی کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق باہمی احترام اور مذاکرات ہی کشیدگی کم کرنے کا مؤثر ذریعہ بن سکتے ہیں۔
ایران پر امریکی مؤقف برقرار، معاہدے کی صورت میں نئی پیش رفت ممکن ہے: ٹرمپ
دوسری جانب صدر ٹرمپ حالیہ دنوں میں یہ عندیہ دے چکے ہیں کہ مستقبل میں ایرانی قیادت کے ساتھ براہِ راست ملاقات کے امکانات موجود ہو سکتے ہیں۔ تاہم ایرانی حکام کی تازہ وضاحت کے بعد ایسی کسی ممکنہ ملاقات کے امکانات فی الحال محدود دکھائی دیتے ہیں۔
محسن رضائی نے زور دیا کہ ایران اور امریکا کے تعلقات میں پیش رفت صرف بیانات سے نہیں بلکہ اعتماد سازی اور عملی اقدامات سے ممکن ہے، جو خطے کے استحکام اور عالمی امن کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔
