پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پاکستان میں فلمی صنعت کو فروغ دینے کے لیے نئے اور جرات مندانہ موضوعات پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض موضوعات ایسے ہیں جن پر صرف ڈرامہ نہیں بلکہ مکمل فلم بنائی جانی چاہیے تاکہ ان کی اہمیت اور اثرات زیادہ مؤثر انداز میں اجاگر ہو سکیں۔
لاہور میں معروف ہدایت کارہ سنگیتا کی نئی فلم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز فلم اور سنیما انڈسٹری کی ترقی کے لیے خصوصی اقدامات کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کی کوشش ہے کہ نوجوان نسل کو صرف موبائل اور ٹچ اسکرین تک محدود رکھنے کے بجائے سنیما اور تخلیقی سرگرمیوں کی جانب راغب کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی ڈرامے دنیا بھر میں پسند کیے جاتے ہیں، اس لیے فلمی شعبے میں بھی اسی معیار کی تخلیقات پیش کی جا سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مضبوط کہانیوں اور معیاری پروڈکشن کے ذریعے پاکستانی فلموں کو نئی بلندیوں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔
وزیر اطلاعات نے نوجوان فلم سازوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ جدید سوچ اور منفرد خیالات کے ساتھ فلمی صنعت میں قدم رکھیں۔ ان کے مطابق ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے فلم اور تفریحی شعبے کے لیے نئے مواقع پیدا کیے ہیں، جن سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔
پنجاب میں ترقی صرف نعروں تک محدود نہیں، عملی کام نظر آ رہے ہیں: عظمیٰ بخاری
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ "پنکی ڈرگ والی” کے موضوع پر ڈرامہ بنانے کا اعلان کیا گیا ہے، تاہم ان کی رائے میں یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر فلم بنائی جانی چاہیے تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ فلمیں نہ صرف تفریح کا ذریعہ ہیں بلکہ ان کے ذریعے ملک کا مثبت تشخص بھی دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے یقین دلایا کہ مجوزہ فلم سٹی منصوبے میں جدید سہولیات فراہم کی جائیں گی اور فلم و ڈرامہ کی تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کے بہتر مواقع میسر آئیں گے۔
