امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای پہلے کے مقابلے میں زیادہ فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ملکی اور بین الاقوامی معاملات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور اہم فیصلوں میں شریک ہیں۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے روبیو نے بتایا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے ہدایات براہِ راست نہیں بلکہ تحریری پیغامات اور مختلف رابطہ کاروں کے ذریعے مذاکراتی عمل تک پہنچائی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت کی بڑھتی ہوئی شمولیت مذاکرات کی سمت پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
روبیو کے مطابق حالیہ بات چیت میں ایرانی جوہری پروگرام کے بعض ایسے معاملات بھی زیرِ غور آئے ہیں جن پر تہران ماضی میں گفتگو سے گریز کرتا رہا تھا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ پیش رفت کسی حتمی یا قابلِ قبول معاہدے کی ضمانت نہیں سمجھی جا سکتی۔
امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ واشنگٹن کی اہم ترجیحات میں آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری آمدورفت کی بحالی اور ایران کے افزودہ یورینیئم کے ذخائر سے متعلق واضح پیش رفت شامل ہے۔ ان کے بقول صرف آبنائے ہرمز کے مسئلے کے حل کی بنیاد پر ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی نہیں کی جائے گی بلکہ اس کے لیے تہران کو اپنے جوہری پروگرام پر نمایاں رعایتیں دینا ہوں گی۔
لبنان پر اسرائیلی کارروائیاں جاری رہیں تو ایران-امریکا مذاکرات متاثر ہو سکتے ہیں: ایرانی قیادت
دوسری جانب ایرانی خبر رساں ادارے مہر نے مذاکراتی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران امریکی تجاویز کا تفصیلی جائزہ لے رہا ہے اور حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان کوئی براہِ راست رابطہ نہیں ہوا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ بندی سے متعلق امریکی مؤقف اور باہمی عدم اعتماد کے باعث تہران نے مذاکرات میں سخت رویہ اختیار کر رکھا ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تاثر کو مسترد کیا ہے کہ مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہے۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ رابطے برقرار ہیں اور بات چیت مسلسل جاری ہے۔ ٹرمپ کے مطابق ایران ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے اور اسے جلد کسی نہ کسی شکل میں فیصلہ کرنا ہوگا۔
