صومالیہ میں ایک جہاز پر اغوا کیے گئے پاکستانی عملے کے اہل خانہ نے صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ اہل خانہ کے مطابق جہاز 21 اپریل سے سمندر میں غیر مستحکم حالت میں موجود ہے اور عملہ 41 روز سے یرغمال ہے۔
مغویوں کے اہل خانہ نے ایک ویڈیو پیغام میں بتایا کہ جس جہاز پر ان کے پیارے موجود ہیں وہ مبینہ طور پر اسکریپ ہونے والا تھا اور اس کی موجودہ حالت انتہائی خراب ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی بار دیگر مسلح گروہ بھی جہاز پر قبضے کی کوشش کر چکے ہیں، جس سے صورتحال مزید خطرناک ہو گئی ہے۔
ایک مغوی امین بن شمس کی اہلیہ نے بتایا کہ ان کے شوہر اور دیگر افراد کی زندگیوں کے حوالے سے شدید خدشات پائے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق عید کے موقع پر مختصر رابطہ ہوا تھا جس میں مغویوں نے اپنی پریشانی اور غیر محفوظ حالات کا ذکر کیا۔
دیگر اہل خانہ نے الزام عائد کیا کہ مختلف متعلقہ دفاتر اور حکام سے رابطے کے باوجود انہیں کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ وہ متعدد بار احتجاج اور درخواستیں کر چکے ہیں، تاہم اب تک کوئی عملی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
اہل خانہ نے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جہاز پر موجود تمام پاکستانیوں کو محفوظ طریقے سے وطن واپس لانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔ ان کے مطابق بچوں اور خاندانوں کی بے چینی دن بدن بڑھتی جا رہی ہے، اور صورتحال فوری توجہ کی متقاضی ہے۔
