آئی ایم ایف اور ایف بی آر کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ پر مذاکرات آخری مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں، جہاں عالمی مالیاتی ادارے نے پاکستان سے سیلز ٹیکس میں دی گئی تمام چھوٹ اور استثنیٰ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف مشن اور ایف بی آر حکام کے درمیان آج اہم ملاقاتیں شیڈول ہیں جن میں ٹیکس وصولیوں، نئے محصولات اور بجٹ حکمت عملی پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔ آئی ایم ایف آئندہ مالی سال کیلئے 15 ہزار 264 ارب روپے کے ٹیکس ہدف پر زور دے رہا ہے جبکہ ایف بی آر اس ہدف میں نرمی کی کوشش کر رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق آئی ایم ایف نے انفورسمنٹ اقدامات کے ذریعے مزید 778 ارب روپے کی اضافی وصولیوں کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ اس کے علاوہ آئندہ بجٹ میں تقریباً 430 ارب روپے کے نئے ٹیکس اقدامات زیر غور ہیں جن پر ایف بی آر کی جانب سے بریفنگ دی جائے گی۔
آئی ایم ایف کی نئی شرائط، آئندہ بجٹ میں 430 ارب روپے کے اضافی ٹیکس کا امکان
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر اور آئی ایم ایف کے درمیان ٹیکس ہدف کو مجموعی قومی پیداوار (GDP) کے 11.2 فیصد کے برابر رکھنے پر اتفاق ہو چکا ہے۔
