کراچی میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (DHA) فیز II ایکسٹینشن میں ایک منظم غیر قانونی کال سینٹر کا سراغ لگا کر اسے بے نقاب کر دیا ہے۔ کارروائی کے دوران 7 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔
چھاپہ اور کارروائی کی تفصیلات
حکام کے مطابق یہ کارروائی خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئی، جس میں انکشاف ہوا کہ یہ کال سینٹر ایک منظم طریقے سے سائبر فراڈ میں ملوث تھا۔ چھاپے کے دوران لیپ ٹاپس، موبائل فونز اور ڈیجیٹل شواہد سمیت اہم مواد بھی برآمد کیا گیا، جنہیں فوری طور پر قبضے میں لے لیا گیا۔
کارروائی کے دوران مجموعی طور پر 10 لیپ ٹاپس، 6 موبائل فونز اور ہزاروں غیر ملکی شہریوں سے متعلق مبینہ بینکنگ ڈیٹا برآمد ہوا، جسے مزید تفتیش کے لیے فارنزک تجزیے میں بھیج دیا گیا ہے۔
جعلی بینک نمائندوں کے ذریعے فراڈ
ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کال سینٹر کے ایجنٹس خود کو غیر ملکی بینکوں کے نمائندے ظاہر کرتے تھے۔ یہ افراد "اسپوفنگ” کے ذریعے فون کالز کرتے اور شہریوں کو یہ یقین دلاتے کہ وہ کسی معتبر مالیاتی ادارے سے رابطے میں ہیں۔
اس طریقہ کار کے ذریعے وہ متاثرین سے حساس معلومات حاصل کرتے تھے جن میں سوشل سکیورٹی نمبرز، فون نمبرز، تاریخ پیدائش، والدہ کا نام اور حتیٰ کہ سی وی وی کوڈز بھی شامل تھے۔
کراچی کے بلدیہ ٹاؤن میں دل دہلا دینے والا واقعہ: سابقہ بیوی اور دو بچوں کا قتل
غیر ملکی شہریوں کو نشانہ بنانے کا انکشاف
حکام کے مطابق یہ نیٹ ورک خاص طور پر غیر ملکی شہریوں کو نشانہ بنا رہا تھا۔ حاصل کردہ ڈیٹا کو مبینہ طور پر جعلی مرچنٹ اکاؤنٹس کے ذریعے غیر قانونی مالی لین دین اور چارجز کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا، جس سے بھاری مالی فائدہ حاصل کیا جاتا تھا۔
گرفتاریاں اور قانونی کارروائی
نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کے مطابق کارروائی کے دوران 7 افراد کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ عدالت سے ملزمان کا جسمانی ریمانڈ بھی حاصل کر لیا گیا ہے تاکہ مزید تفتیش کی جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ضبط شدہ تمام آلات اور ڈیجیٹل مواد کو تکنیکی اور فرانزک تجزیے کے لیے متعلقہ لیبارٹریز میں بھیج دیا گیا ہے، تاکہ اس نیٹ ورک کے دیگر ممکنہ روابط اور بین الاقوامی سطح پر اس کے اثرات کا پتہ لگایا جا سکے۔
بڑھتے ہوئے سائبر کرائم کا مسئلہ
ماہرین کے مطابق پاکستان میں حالیہ برسوں میں سائبر کرائم اور آن لائن فراڈ کے کیسز میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ خاص طور پر کال سینٹرز کے ذریعے بین الاقوامی شہریوں کو نشانہ بنانے والے نیٹ ورکس ایک سنگین چیلنج بنتے جا رہے ہیں، جس کے لیے سخت نگرانی اور جدید سائبر سکیورٹی اقدامات کی ضرورت ہے۔
