ٹرمپ کا ’’پروجیکٹ فریڈم‘‘ پر یوٹرن، سعودی عرب کی مخالفت بڑی وجہ قرار

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت سے متعلق مجوزہ منصوبے ’’پروجیکٹ فریڈم‘‘ کو اچانک روک دینے کے فیصلے کے پیچھے سعودی عرب کے تحفظات اہم وجہ بن گئے ہیں۔ امریکی نشریاتی ادارے NBC News کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سعودی عرب نے امریکا کو اپنے فضائی اڈوں اور فضائی حدود کے استعمال کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا، جس کے بعد وائٹ ہاؤس کو اپنی حکمتِ عملی پر نظرثانی کرنا پڑی۔

latest urdu news

منصوبے کے اعلان پر خلیجی ممالک حیران

رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے اتوار کی سہ پہر سوشل میڈیا پر ’’پروجیکٹ فریڈم‘‘ کا اعلان کیا، جس سے خلیجی اتحادی ممالک، خصوصاً سعودی قیادت، حیران رہ گئی۔ ذرائع کے مطابق اس اعلان سے پہلے خطے کے اہم اتحادیوں سے مکمل مشاورت نہیں کی گئی تھی، جس پر ریاض نے ناراضی کا اظہار کیا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے واضح کیا کہ وہ کسی ایسے فوجی آپریشن کا حصہ نہیں بننا چاہتا جو خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ کرے۔ اسی تناظر میں سعودی حکومت نے امریکی فوج کو اپنے اڈے اور فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے گریز کیا۔

آبنائے ہرمز کی عالمی اہمیت

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ خلیجی ممالک سے نکلنے والے تیل کا بڑا حصہ اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی اور دیگر عالمی اداروں کے مطابق دنیا کی یومیہ تیل سپلائی کا تقریباً ایک پانچواں حصہ اس گزرگاہ سے گزرتا ہے۔

اسی وجہ سے اس خطے میں کسی بھی قسم کی فوجی کشیدگی عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔ ماضی میں بھی ایران اور امریکا کے درمیان تناؤ کے دوران آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی رہی ہے۔

آبنائے ہرمز میں امریکی آپریشن معطل، ایران نے دباؤ مسترد کر دیا

امریکا اور خلیجی اتحادیوں کے درمیان محتاط توازن

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خلیجی ممالک اس وقت خطے میں کسی بڑے فوجی تصادم سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سعودی عرب سمیت کئی عرب ممالک حالیہ برسوں میں سفارتی اور معاشی استحکام پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں، اس لیے وہ کسی نئی عسکری مہم جوئی سے محتاط دکھائی دیتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ امریکا اور سعودی عرب کے تعلقات اسٹریٹجک نوعیت کے ہیں، تاہم مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال میں دونوں ممالک کئی معاملات پر محتاط حکمتِ عملی اختیار کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ’’پروجیکٹ فریڈم‘‘ جیسے حساس منصوبے پر فوری اتفاق رائے سامنے نہیں آ سکا۔

وائٹ ہاؤس کی خاموشی

تاحال وائٹ ہاؤس یا سعودی حکام کی جانب سے NBC News کی اس رپورٹ پر باضابطہ تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ امریکا اور اس کے خلیجی اتحادیوں کے درمیان پالیسی ہم آہنگی کے حوالے سے اہم سوالات اٹھا رہا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی متعدد سیاسی اور عسکری تنازعات کا سامنا کر رہا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter