زرمبادلہ ذخائر میں مسلسل اضافہ، بیرونی قرض 100 ارب ڈالر پر برقرار: گورنر اسٹیٹ بینک

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مسلسل بہتری آ رہی ہے اور ملک کا بیرونی قرض اب بھی تقریباً 100 ارب ڈالر کی سطح پر برقرار ہے۔ ان کے مطابق حالیہ معاشی اقدامات اور بیرونی مالی معاونت کے باعث معیشت میں استحکام کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔

latest urdu news

قائمہ کمیٹی کو معاشی صورتحال پر بریفنگ

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے ملک کی معاشی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کے دوران گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے بتایا کہ گزشتہ ماہ پاکستان نے تقریباً 5 ارب ڈالر کی بیرونی ادائیگیاں کیں، تاہم اس کے باوجود زرمبادلہ ذخائر مستحکم رہے۔

انہوں نے کہا کہ رواں ماہ زرمبادلہ ذخائر 17 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گے، جبکہ ذخائر میں ہر ہفتے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق آئی ایم ایف سے متوقع فنڈز موصول ہونے کے بعد ذخائر مزید بہتر ہوں گے اور یہ تین ماہ کی درآمدات کے مساوی سطح تک پہنچ سکتے ہیں، جسے عالمی سطح پر نسبتاً محفوظ معاشی حد تصور کیا جاتا ہے۔

آئی ایم ایف پروگرام سے بہتری کی امید

گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس جلد متوقع ہے، جس میں پاکستان کے اگلے اقتصادی جائزے کی منظوری کا امکان ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق اگر یہ منظوری مل جاتی ہے تو پاکستان کو نہ صرف نئی قسط جاری ہوگی بلکہ دیگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور دوست ممالک سے مالی معاونت کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

پاکستان گزشتہ چند برسوں سے زرمبادلہ ذخائر میں کمی، درآمدی دباؤ اور قرض ادائیگیوں جیسے چیلنجز کا سامنا کرتا رہا ہے۔ تاہم حالیہ مہینوں میں درآمدات پر کنٹرول، ترسیلات زر اور مالیاتی نظم و ضبط کی وجہ سے کچھ بہتری دیکھی گئی ہے۔

ایل این جی کارگوز کی منتقلی کا منصوبہ منظور، زرمبادلہ میں 1 ارب ڈالر کی بچت متوقع

27 ارب ڈالر مارکیٹ سے خریدنے کا انکشاف

جمیل احمد نے کمیٹی کو بتایا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران اسٹیٹ بینک نے مارکیٹ سے 27 ارب ڈالر خریدے۔ ان کے مطابق یہ اقدام زرمبادلہ ذخائر کو مستحکم بنانے کے لیے کیا گیا تاکہ بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ درآمدات میں اضافے کے باوجود رواں مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس رہا، جو معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔

بیرونی قرض میں اضافہ نہیں ہوا

گورنر اسٹیٹ بینک نے اس تاثر کو بھی رد کیا کہ پاکستان کے بیرونی قرض میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق جون 2020 میں بھی بیرونی قرض تقریباً 100 ارب ڈالر تھا اور آج بھی یہ اسی سطح کے قریب ہے۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ قرض کا حجم برقرار ہے، لیکن اصل چیلنج قرضوں کی واپسی، شرح سود اور زرمبادلہ ذخائر کے درمیان توازن قائم رکھنا ہے۔ اسی لیے حکومت اور اسٹیٹ بینک دونوں مالیاتی استحکام برقرار رکھنے پر زور دے رہے ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter