معرکۂ حق میں بھارت کے 8 طیارے گرائے گئے، پاک فضائیہ کا دعویٰ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

راولپنڈی میں “معرکۂ حق” کی پہلی سالگرہ کے موقع پر پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) اور پاک فضائیہ کے اعلیٰ حکام نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور ماضی کے عسکری واقعات پر تفصیلی گفتگو کی۔ اس موقع پر ڈپٹی چیف آف ائیر اسٹاف (پراجیکٹس) ائیر وائس مارشل طارق غازی نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے ایک بڑے فضائی معرکے میں بھارت کے 8 طیارے مار گرائے۔

latest urdu news

بھارت کے 8 طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ

ائیر وائس مارشل طارق غازی کے مطابق “آپریشن بنیان المرصوص” کے دوران پاک فضائیہ نے بھرپور جواب دیتے ہوئے بھارت کے 8 طیارے تباہ کیے۔ ان کے مطابق ان طیاروں میں 4 رافیل، ایس یو-30، مگ-29 اور میراج-2000 جیسے جدید جنگی طیارے شامل تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کارروائی کے دوران ایک مہنگا اور جدید کثیرالجہتی خودکار فضائی نظام بھی تباہ کیا گیا۔ ان کے مطابق اس فضائی معرکے کے بعد “اسکور 8-0” پاکستان کے حق میں ہے۔

معرکۂ حق پر پاک فوج کا مؤقف

پریس کانفرنس میں ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے ایک ایسے دشمن کے خلاف کامیابی حاصل کی جو عسکری لحاظ سے کئی گنا بڑا تھا۔ ان کے مطابق “معرکۂ حق” ایک ملٹی ڈومین جنگ تھی جس میں پاکستان نے مؤثر دفاعی حکمت عملی کے ذریعے برتری حاصل کی۔

انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت صرف پاکستانی عوام ہی نہیں بلکہ بھارتی عوام بھی جانتے ہیں، تاہم اسے تسلیم کرنے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

اللّٰہ نے معرکۂ حق میں ہماری مدد کی کیونکہ ہم حق پر تھے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

بھارت پر الزامات اور بیانیہ کی جنگ

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے خطے میں پاکستان کے خلاف ایک منفی بیانیہ قائم کرنے کی کوشش کی ہے، جس میں پاکستان کو دہشتگردی سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تاہم ان کے مطابق بھارت خود مختلف علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہے، جن میں مقبوضہ کشمیر اور منی پور کے حالات کی مثالیں دی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعے کے بعد بھی پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ ان کے مطابق بھارت نے بغیر مکمل تحقیقات کے فوری طور پر الزامات عائد کیے، جو ان کے بقول غیر سنجیدہ رویہ ہے۔

خطے میں کشیدگی اور سفارتی چیلنجز

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان اس نوعیت کے بیانات خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان ماضی میں بھی فضائی اور زمینی محاذ پر جھڑپیں ہو چکی ہیں، جن کے اثرات پورے جنوبی ایشیا کی سیاسی صورتحال پر پڑتے رہے ہیں۔

تاہم سرکاری سطح پر دونوں ممالک کی جانب سے اکثر امن اور استحکام کی بات کی جاتی ہے، لیکن عسکری بیانات وقتاً فوقتاً تناؤ میں اضافہ کرتے رہتے ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter