بجلی سستی ہوگی یا مہنگی؟ وزیر خزانہ نے واضح جواب دینے سے گریز کر دیا

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

حکومت کی جانب سے بجلی کی قیمتوں اور سبسڈی سے متعلق پالیسی پر غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، جبکہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بھی اس معاملے پر کوئی حتمی مؤقف دینے سے گریز کیا ہے۔

latest urdu news

قائمہ کمیٹی اجلاس میں اہم سوالات

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جہاں اراکین نے حکومت کی توانائی پالیسی، بجلی کی قیمتوں اور سبسڈی کے مستقبل سے متعلق سوالات اٹھائے۔ اجلاس کے دوران وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے پوچھا گیا کہ آیا بجلی پر دی جانے والی سبسڈی ختم کی جا رہی ہے یا نہیں۔

اس سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ وزیر توانائی اویس لغاری اور وزیراعظم اس معاملے پر مسلسل کام کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق آنے والے دنوں میں بجلی کی سبسڈی کے حوالے سے مزید بات چیت متوقع ہے۔

بجلی مہنگی ہوگی یا سستی؟

کمیٹی اجلاس میں سب سے اہم سوال یہ تھا کہ آیا عوام کو مستقبل میں بجلی سستی ملے گی یا مزید مہنگی ہوگی۔ تاہم وزیر خزانہ نے اس بارے میں کوئی واضح جواب نہیں دیا۔

محمد اورنگزیب نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ ان کے اس بیان نے بجلی کے نرخوں سے متعلق موجود غیر یقینی صورتحال کو مزید بڑھا دیا ہے، کیونکہ عوام پہلے ہی بڑھتے ہوئے بجلی بلوں اور مہنگائی سے پریشان ہیں۔

نیپرا کا فیصلہ: بجلی ایک پیسہ فی یونٹ سستی، مئی کے بلوں میں ریلیف ملے گا

آئی ایم ایف پروگرام اور حکومتی اہداف

اجلاس کے دوران وزیر خزانہ نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے جاری مذاکرات پر بھی بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف بورڈ کا اجلاس کل متوقع ہے اور پاکستان نے اپنے مقررہ معاشی اہداف پورے کر لیے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ قرض پروگرام کی حتمی منظوری آئی ایم ایف بورڈ کے فیصلے پر منحصر ہوگی۔ معاشی ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پاکستان پر توانائی شعبے میں اصلاحات اور سبسڈی کم کرنے کے لیے دباؤ موجود ہے، جس کے باعث بجلی کی قیمتوں میں رد و بدل کا امکان مسلسل زیر بحث ہے۔

200 یونٹ تک سبسڈی سے متعلق خدشات

حالیہ دنوں میں یہ خبریں بھی سامنے آئی تھیں کہ حکومت نے آئی ایم ایف کو 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے سبسڈی نظام میں تبدیلی کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اگرچہ اس حوالے سے ابھی کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، لیکن عوامی سطح پر اس معاملے پر تشویش پائی جاتی ہے۔

توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سبسڈی میں کمی کی گئی تو اس کا براہِ راست اثر متوسط اور کم آمدنی والے صارفین پر پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ بجلی کے شعبے میں مالی خسارے کو کم کرنے کے لیے اصلاحات ناگزیر ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter