پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی تعلقات ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئے ہیں، کیونکہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان درآمدات میں معمولی مگر مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ یہ رجحان خطے میں اقتصادی تعاون کے بڑھتے امکانات کی نشاندہی کرتا ہے۔
7 ماہ میں درآمدات کی تازہ صورتحال
ذرائع کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی 7 ماہ میں پاکستان کی ایران سے درآمدات کا حجم 78 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ رقم تقریباً 76 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تھی۔ اس طرح درآمدات میں تقریباً 2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
یہ اضافہ اگرچہ بڑا نہیں، لیکن اس بات کی علامت ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیاں بتدریج بڑھ رہی ہیں۔
سالانہ بنیادوں پر تجارتی رجحان
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران ایران سے پاکستان کی درآمدات میں مجموعی طور پر 18 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ مالی سال 2024–25 میں یہ حجم 1 ارب 22 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ اس سے پچھلے مالی سال 2023–24 میں یہ 1 ارب 3 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تھا۔
یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی انحصار میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر توانائی اور دیگر بنیادی اشیاء کی درآمدات کے حوالے سے۔
برآمدات میں مسلسل تعطل
ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی کے کئی مالی سالوں میں پاکستان کی ایران کو برآمدات تقریباً صفر رہی ہیں۔ اس کی بڑی وجہ بین الاقوامی پابندیاں اور بینکاری نظام میں رکاوٹیں بتائی جاتی ہیں، جن کے باعث براہِ راست مالی لین دین ممکن نہیں ہو سکا۔
یہ صورتحال دونوں ممالک کے درمیان تجارتی توازن کو بھی متاثر کرتی رہی ہے۔
مستقبل کے اہداف اور تجارتی امکانات
پاکستان اور ایران دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارت کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ ہدف اگر حاصل ہو جاتا ہے تو خطے میں اقتصادی تعاون اور توانائی کے شعبے میں نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس مقصد کے لیے بینکاری چینلز کی بہتری، تجارتی رکاوٹوں کا خاتمہ اور پالیسی سطح پر مستقل تعاون ناگزیر ہوگا۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت میں موجودہ اضافہ محدود ضرور ہے، لیکن یہ مستقبل میں بڑے اقتصادی تعاون کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔
