وائٹ ہاؤس ڈنر فائرنگ کی مذمت: صدر آصف زرداری نے واقعے کو دہشتگردی کی گھناؤنی شکل قرار دے دیا

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

صدر مملکت آصف علی زرداری نے واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ڈنر کے دوران پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے اس واقعے کو “دہشتگردی کی گھناؤنی شکل” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے ناقابل قبول ہیں۔

latest urdu news

صدر زرداری کے مطابق اس نوعیت کے واقعات نہ صرف انسانی جانوں کے لیے خطرہ ہیں بلکہ عالمی امن اور استحکام کے لیے بھی سنگین چیلنج بن جاتے ہیں۔

صدر ٹرمپ اور خاتونِ اول کی خیریت پر اطمینان

صدر مملکت نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ اور تقریب میں شریک دیگر افراد محفوظ رہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بڑے جانی نقصان سے بچ جانا ایک خوش آئند پہلو ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا ردعمل بھی سامنے آیا

اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے گہرے افسوس اور تشویش کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ واشنگٹن میں ہونے والا یہ واقعہ انتہائی پریشان کن ہے۔

وزیراعظم نے اس بات پر اطمینان ظاہر کیا کہ صدر ٹرمپ، خاتونِ اول اور دیگر شرکاء محفوظ رہے، اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

وائٹ ہاؤس ڈنر حملہ: مشتبہ شخص کی شناخت سامنے آگئی، سابق ٹیچر ملوث نکلا

واقعے کا پس منظر

یہ واقعہ واشنگٹن میں منعقد ہونے والے وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ڈنر کے دوران پیش آیا، جہاں صحافیوں، سیاستدانوں اور دیگر اہم شخصیات کی بڑی تعداد موجود تھی۔ فائرنگ کے بعد سکیورٹی اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو گرفتار کر لیا، جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

سفارتی اہمیت اور عالمی ردعمل

اس واقعے پر مختلف ممالک اور عالمی رہنماؤں کی جانب سے بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی اعلیٰ قیادت کے بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ایسے واقعات کو عالمی سطح پر سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے اور دہشتگردی کے خلاف مشترکہ موقف کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔

صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان اس نوعیت کے پرتشدد واقعات کی سخت مذمت کرتا ہے اور عالمی امن و استحکام کے لیے تعاون کو اہم سمجھتا ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد واقعے کے محرکات مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter