پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ طے پانے والی معاشی و مالیاتی پالیسیوں کی دستاویز میں اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ براہِ راست صارفین تک منتقل کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد توانائی کے شعبے میں مالیاتی دباؤ کو کم کرنا اور معیشت کو مستحکم کرنا ہے۔
رپورٹس کے مطابق حکومت نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ عام آدمی پر بڑھتے ہوئے اخراجات کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ہدفی سبسڈیز (Targeted Subsidies) متعارف کرائی جائیں گی۔ اس کے علاوہ کھاد اور زرعی ادویات پر وفاقی ایکسائز ڈیوٹی کے نفاذ کو فی الحال مؤخر رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ زرعی شعبہ اضافی بوجھ سے محفوظ رہ سکے۔
مزید برآں، خلیجی خطے میں جغرافیائی کشیدگی کے باعث ایندھن اور خوراک کی قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں حکومت نے سماجی تحفظ کے اقدامات کو بھی مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ماہانہ وظیفہ 14 ہزار 500 روپے سے بڑھا کر 19 ہزار 500 روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کا اطلاق 2027 سے متوقع ہے۔
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ، حکومت کا بڑا اعلان
