اسلام آباد میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے اور جنگ بندی کے لیے سفارتی اقدامات جاری ہیں۔
وزیراعظم نے موجودہ علاقائی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران سے متعلق جاری تنازع کے باعث پاکستان بھی معاشی دباؤ کا شکار ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق جنگ کے اثرات معیشت پر واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسحاق ڈار سمیت حکومتی ٹیم خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سرگرم ہے اور سفارتی سطح پر بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔ وزیراعظم کے مطابق پاکستان نے ہمیشہ امن کو ترجیح دی ہے اور جنگ کے شعلوں کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی ہے۔
شہباز شریف نے انکشاف کیا کہ آبنائے ہرمز میں موجود پاکستان کے دو جہاز کامیابی سے گزر چکے ہیں، جو حکومتی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے اس عمل کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
خلیجی ممالک کا امریکا سے مطالبہ: صرف جنگ بندی نہیں، مکمل سیکیورٹی ضمانت درکار
مزید برآں، وزیراعظم نے کہا کہ ممکنہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مالی دباؤ کم کرنے کے لیے وفاقی ترقیاتی پروگرام میں 100 ارب روپے کی کٹوتی کی گئی ہے، جبکہ پارلیمنٹیرینز بھی توانائی کے استعمال میں احتیاط برت رہے ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور جنگ بندی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
