پاکستان آٹوموٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملک میں آٹو صنعت میں بہتری کے آثار ظاہر ہو رہے ہیں۔ فروری 2026 کے دوران مسافر گاڑیوں کی فروخت میں گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 51 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق فروری میں مجموعی طور پر 13 ہزار 388 گاڑیاں فروخت ہوئیں، جبکہ جنوری 2026 میں فروخت ہونے والی گاڑیوں کی تعداد 18 ہزار 602 تھی۔ اس طرح ماہانہ بنیاد پر فروخت میں 28 فیصد کمی دیکھنے میں آئی، تاہم سالانہ بنیاد پر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ میں مجموعی طور پر 97 ہزار 900 گاڑیاں فروخت ہوئیں، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں فروخت ہونے والی 67 ہزار 267 گاڑیوں کے مقابلے میں 46 فیصد زیادہ ہیں۔
مختلف کمپنیوں کی کارکردگی میں ملا جلا رجحان دیکھا گیا۔ انڈس موٹر کی گاڑیوں کرولا، یارس اور کرولا کراس کی فروخت میں 70 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی طور پر 3 ہزار 102 یونٹس فروخت ہوئے۔
پاک سوزوکی کی کارکردگی نمایاں رہی جہاں سوئفٹ کی فروخت میں 151 فیصد جبکہ ایوری کی فروخت میں 391 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے باوجود آلٹو 5 ہزار 522 یونٹس کے ساتھ بدستور ملک میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی گاڑی رہی۔
سوزوکی کی نئی آلٹو صرف 18,999 ماہانہ قسط پر، پرانی گاڑی کے بدلے
دوسری جانب ہونڈا کی گاڑیوں سوک اور سٹی کی فروخت 1 ہزار 861 یونٹس رہی جس میں معمولی کمی دیکھی گئی، جبکہ ایک اور کمپنی کی سوناتا کی فروخت میں 71 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی۔
ماہرین کے مطابق صنعت کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہونے کے باوجود آٹو سیکٹر سالانہ دو لاکھ گاڑیوں کی فروخت کے ہدف کے قریب پہنچ رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ایندھن کی قیمتوں میں استحکام برقرار رہا اور صنعتی پالیسیوں میں تسلسل رہا تو آٹو انڈسٹری مزید ترقی کر سکتی ہے۔
