ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای عالمی توجہ کا مرکز بن گئے

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایران کے نئے سپریم لیڈر سید مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری کے بعد عالمی سطح پر سیاسی اور سفارتی حلقوں میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ عالمی میڈیا اس تبدیلی کو مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دے رہا ہے۔

latest urdu news

رپورٹس کے مطابق سید مجتبیٰ خامنہ ای کے سپریم لیڈر بننے کے بعد مختلف عالمی تجزیہ کار اور میڈیا ادارے ایران کی آئندہ پالیسیوں پر غور کر رہے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ نئی قیادت ایران کی موجودہ حکمتِ عملی اور نظریاتی سمت کو برقرار رکھ سکتی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے بلوم برگ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای طویل عرصے سے اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کے نظریات اور پالیسیوں کو آگے بڑھانے میں فعال کردار ادا کرتے رہے ہیں، جس سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ایران کی پالیسیوں میں تسلسل برقرار رہ سکتا ہے۔

دوسری جانب الجزیرہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کی قیادت خطے میں جاری تنازعات کے تناظر میں اہم ثابت ہو سکتی ہے اور ممکن ہے کہ ایران مزاحمتی پالیسیوں کو مزید مضبوط کرے۔

ایران میں نئے سپریم لیڈر کا اعلان، سید مجتبیٰ خامنہ ای رہبر اعلیٰ منتخب

امریکی میڈیا کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کا تعلیمی اور عسکری پس منظر سخت نظریاتی تربیت پر مبنی ہے اور وہ پاسدارانِ انقلاب (IRGC) سے بھی وابستہ رہے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں فوجی اور انٹیلی جنس حلقوں میں خاصا اثر و رسوخ حاصل ہے۔

بعض امریکی تجزیہ کاروں نے اس پیش رفت کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پالیسی کے تناظر میں بھی دیکھا ہے۔ معروف تجزیہ کار باربرا سلاوِن نے سوال اٹھایا کہ اگر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد قیادت ان کے بیٹے کو ہی ملنی تھی تو اس دوران ہونے والی کشیدگی اور جنگ کا حاصل کیا رہا۔

ماہرین کے مطابق خاندان کے افراد کی شہادت کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای مغربی ممالک اور اسرائیل کے خلاف زیادہ سخت موقف اختیار کر سکتے ہیں، جس کے خطے کی آئندہ سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter