پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کی جانب سے شروع کیا گیا آپریشن غضب للحق جاری ہے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق یہ کارروائیاں افغانستان کی جانب سے مبینہ جارحیت کے جواب میں کی جا رہی ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے میڈیا بریفنگ میں آپریشن کی پیش رفت سے متعلق اعداد و شمار جاری کیے۔ ان کے مطابق پاکستانی فورسز کی جوابی کارروائی میں 415 افغان طالبان ہلاک اور 580 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
چیک پوسٹس اور عسکری تنصیبات کو نقصان
وفاقی وزیر کے مطابق کارروائی کے دوران افغان طالبان رجیم کی 182 چیک پوسٹس تباہ کی گئیں جبکہ 31 چیک پوسٹس پر پاکستانی فورسز نے قبضہ کر لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پیش رفت زمینی سطح پر پاکستان کی عسکری برتری کو ظاہر کرتی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ افغان طالبان کے 185 ٹینک، اسلحہ بردار گاڑیاں اور آرٹلری گنز بھی تباہ کر دی گئی ہیں۔ حکومتی دعوے کے مطابق افغانستان کے اندر 46 مختلف مقامات پر مؤثر فضائی کارروائیاں کی گئیں، جن میں عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
آپریشن غضب للحق: پاک فضائیہ نے قندھار میں افغان فوج کے ہیڈ کوارٹر تباہ، طالبان کو بھاری نقصان
سرکاری مؤقف اور علاقائی صورتحال
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد سرحدی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ سرکاری بیانات کے مطابق کارروائیاں مخصوص اہداف تک محدود ہیں اور ان کا ہدف صرف عسکری تنصیبات ہیں۔
دوسری جانب اس حوالے سے افغان حکام کی جانب سے باضابطہ ردعمل یا تصدیق سامنے آنا باقی ہے۔ علاقائی ماہرین کا کہنا ہے کہ سرحدی کشیدگی کے ایسے واقعات خطے کے امن و استحکام پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں، اس لیے سفارتی ذرائع کو بھی متحرک رکھنا ضروری ہے۔
موجودہ صورتحال میں دونوں ممالک کی سرحدی پٹی پر سیکیورٹی الرٹ برقرار ہے جبکہ حکومتی سطح پر مزید پیش رفت سے متعلق اطلاعات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
