ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد بین الاقوامی سطح پر ردعمل جاری ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سیکورٹی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں روس کے مندوب نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے ایک “جارحانہ اقدام اور کمر میں چھرا گھونپنے کے مترادف” ہیں۔
روسی موقف اور الزامات
روسی مندوب نے اپنی تقریر میں کہا کہ ایران کے خلاف امریکی الزامات بے بنیاد ہیں اور انہیں کسی بھی طرح حقیقت پر مبنی نہیں سمجھا جا سکتا۔ انہوں نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے حوالے سے واضح کیا کہ ایجنسی نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ایران ایٹمی ہتھیار تیار کر رہا ہے۔ روسی مندوب نے عراق جنگ کے حوالے سے بھی مثال دی، جہاں پہلے بھی بے بنیاد دعوے استعمال کیے گئے تھے۔
مزید برآں، روسی مندوب نے کہا کہ ایران کے شہریوں پر حملے کرنے والے ممالک، بشمول یورپی ممالک، اپنی خاموشی سے مسئلہ کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کو ایران کے معاملے پر گمراہ کرنے کی تمام کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی۔
فرانس اور چین کے ردعمل
روس کے موقف کے برعکس، فرانس کے مندوب نے ایران پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ ایران کو اپنی عالمی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔ فرانس نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر مذاکرات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خطے کے ممالک پر ایران کے ممکنہ حملوں کی سخت مذمت کی جاتی ہے اور ایران کی عدم استحکام پالیسی خطے کے لیے خطرہ ہے۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کا مبینہ آخری پیغام سوشل میڈیا پر وائرل
چین کے مندوب نے بھی خطاب کرتے ہوئے شہریوں پر حملوں سے گریز کرنے اور کشیدگی کو فوری ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام فریقین کو مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنا چاہیے تاکہ خطے میں امن اور استحکام قائم رہے۔
مجموعی جائزہ
بین الاقوامی ردعمل سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ایران پر حملے عالمی سیاست میں شدید کشیدگی پیدا کر چکے ہیں۔ روس اور چین نے ایران کے حق میں موقف اختیار کیا ہے جبکہ یورپی ممالک اور امریکا ایران کی پالیسیوں پر تنقید کر رہے ہیں۔ اس صورتحال سے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کا خدشہ بڑھ رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر سفارتی کشیدگی بھی عروج پر پہنچ گئی ہے۔
یہ معاملہ آنے والے دنوں میں بین الاقوامی تعلقات اور خطے کی سلامتی کے لیے اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔
