شاداب خان کے سسر ثقلین مشتاق داماد کادفاع کرنے لگے

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں انگلینڈ کے خلاف پاکستان کی شکست کے بعد آل راؤنڈر شاداب خان کی کارکردگی ایک بار پھر بحث کا مرکز بن گئی۔ ایک ٹی وی پروگرام میں سابق کپتان محمد حفیظ اور سابق اسپنر ثقلین مشتاق کے درمیان اس معاملے پر تفصیلی گفتگو ہوئی جس میں دونوں نے اپنے اپنے مؤقف پیش کیے۔

latest urdu news

محمد حفیظ کا کہنا تھا کہ ٹیم میں شاداب خان کے بنیادی کردار سے متعلق ابہام پایا جاتا ہے، جو مجموعی توازن کو متاثر کر رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ واضح ہونا چاہیے کہ شاداب کو بیٹنگ آل راؤنڈر سمجھا جا رہا ہے یا بولنگ آل راؤنڈر، کیونکہ کارکردگی کا جائزہ اسی بنیاد پر لیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کھلاڑی کی بنیادی ذمہ داری واضح نہ ہو تو نہ صرف اس کی اپنی کارکردگی متاثر ہوتی ہے بلکہ ٹیم کمبی نیشن بھی غیر مستحکم ہو جاتا ہے۔

حفیظ نے اپنے کیریئر کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ انہیں بطور آل راؤنڈر ہمیشہ اپنی بنیادی ذمہ داری کا علم تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ بیٹنگ میں رنز اسکور نہ کرتے تو ٹیم کو ان کی بولنگ کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی تھی۔ اس لیے ہر آل راؤنڈر کو یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ ٹیم میں کس کردار کے تحت شامل ہے اور اس کے مطابق اپنی کارکردگی بہتر بنانی چاہیے۔

پاکستان ورلڈکپ میں سیمی فائنل نہیں بلکہ فائنل کھیلنے جائے گا: شاداب خان

دوسری جانب ثقلین مشتاق نے شاداب خان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ متعدد مواقع پر بیٹ سے میچ وننگ اننگز کھیل چکے ہیں اور انہیں صرف بولنگ آل راؤنڈر کہنا درست نہیں۔ ان کے مطابق جدید کرکٹ میں آل راؤنڈر سے دونوں شعبوں میں کارکردگی کی توقع کی جاتی ہے اور کسی ایک شعبے کی بنیاد پر تنقید مناسب نہیں۔

اس بحث نے ایک اہم سوال کو جنم دیا ہے کہ کیا قومی ٹیم میں کھلاڑیوں کے کردار کی وضاحت مؤثر انداز میں کی جا رہی ہے یا نہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ بڑے ٹورنامنٹس میں معمولی ابہام بھی نتائج پر اثر انداز ہو سکتا ہے، اس لیے ٹیم مینجمنٹ کو اس پہلو پر واضح حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter