چینی صدر نے فلسطین کا مسئلہ حل کرنے کے لیے 4 اصول پیش کردیے

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

شی جن پنگ نے فلسطین کے دیرینہ تنازع کے سیاسی حل، فلسطینیوں کی حکمرانی اور شہریوں کے تحفظ پر زور دیا ہے۔

latest urdu news

چینی صدر شی جن پنگ نے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے چار بنیادی اصول پیش کرتے ہوئے سیاسی مذاکرات اور دو ریاستی حل کو ترجیح دینے پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے ایسا سیاسی راستہ اختیار کرنا ضروری ہے جس میں فلسطینی عوام کے حقوق اور مستقبل کو بھی مدنظر رکھا جائے۔

چینی صدر کی جانب سے یہ نکات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب فلسطین کا تنازع کئی دہائیوں سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور عدم استحکام کی ایک بڑی وجہ بنا ہوا ہے۔ عالمی سطح پر فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل کو تنازع کے ممکنہ سیاسی حل کے طور پر زیر بحث لایا جاتا رہا ہے۔

سیاسی سمجھوتے اور دو ریاستی حل پر زور

شی جن پنگ کے مطابق فلسطین کے مسئلے کا حل طاقت یا محض فوجی ذرائع کے بجائے سیاسی سمجھوتے کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ ان کے پہلے اصول میں دو ریاستی حل کو ترجیح دینا شامل ہے، جس کے تحت فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے لیے الگ الگ ریاستوں کے قیام کے ذریعے تنازع کا سیاسی حل تلاش کیا جاتا ہے۔

چینی مؤقف کے مطابق اس عمل میں فلسطینی عوام کے جائز حقوق اور ان کی سیاسی امنگوں کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح خطے میں پائیدار امن کے لیے فریقین کے درمیان سیاسی مذاکرات کی اہمیت بھی برقرار رہتی ہے۔

فلسطینی علاقوں میں فلسطینیوں کی حکمرانی

چینی صدر کے دوسرے اصول کے مطابق مغربی کنارے اور جنگ کے بعد غزہ میں رہنے والے فلسطینی عوام پر حکمرانی فلسطینی ہی کریں۔ اس مؤقف میں مقامی آبادی کی سیاسی اور انتظامی خودمختاری کو اہمیت دی گئی ہے۔

تائیوان کی آزادی ہرگز قبول نہیں، اسے برداشت بھی نہیں کریں گے: شی جن پنگ

شی جن پنگ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ غزہ کے مستقبل سے متعلق کسی بھی انتظام میں فلسطینی عوام کے مفادات اور خواہشات کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔

شہریوں کا تحفظ اور انسانی امداد

تیسرے اصول میں انسانی ہمدردی کو مرکزی حیثیت دیتے ہوئے شہریوں کے تحفظ اور ان تک ضروری امداد کی فراہمی پر زور دیا گیا ہے۔ جنگ یا مسلح تنازع کے دوران عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، اس لیے چینی صدر کے مطابق انسانی اصولوں کی پاسداری اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

انصاف اور برابری کو بنیادی اہمیت

چوتھے اصول میں شی جن پنگ نے انصاف اور برابری کو ملحوظ خاطر رکھنے پر زور دیا۔ ان کے مطابق فلسطین کے مسئلے کا پائیدار حل اسی صورت ممکن ہے جب امن کے عمل میں فریقین کے حقوق اور مفادات کو منصفانہ انداز میں دیکھا جائے۔

چین طویل عرصے سے فلسطین کے مسئلے کے سیاسی حل اور دو ریاستی فارمولے کی حمایت کرتا آیا ہے۔ بیجنگ کا مؤقف ہے کہ فلسطینی مسئلے کا منصفانہ حل مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے اہم ہے۔ موجودہ صورتحال میں بھی چین سیاسی مذاکرات، انسانی امداد اور شہریوں کے تحفظ کو تنازع کے حل کے اہم اجزا قرار دے رہا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter