امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کی موجودگی کا بنیادی مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے، جبکہ واشنگٹن کے پاس تہران سے نمٹنے کے لیے مختلف آپشنز موجود ہیں۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران کے خلاف مؤثر حکمت عملی یہ ہے کہ اسے تیل اور گیس کی تجارت میں رکاوٹ ڈالنے کی بھاری قیمت ادا کرنے پر مجبور کیا جائے۔
امریکی نائب صدر کے مطابق ایران کے ساتھ کسی ملاقات یا ممکنہ معاہدے پر دستخط کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ تہران کے منجمد فنڈز فوری طور پر بحال کردیئے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے پاس بین الاقوامی تجارتی راستوں کو مکمل طور پر بند کرنے کی صلاحیت موجود نہیں اور امریکا اہم بحری راستوں سے توانائی کی ترسیل جاری رکھنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔
جے ڈی وینس اور نیتن یاہو کی گفتگو میں کشیدگی، برطانوی میڈیا کا دعویٰ
جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ امریکا آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل برقرار رکھنے میں کامیاب ہے اور اس اہم آبی گزرگاہ سے روزانہ تقریباً 70 لاکھ سے ایک کروڑ 50 لاکھ بیرل تک تیل منتقل کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری راستہ ہے اور خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث اس راستے سے تیل کی سپلائی اور عالمی توانائی منڈی کی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
