ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پارلیمانی کمیٹی نے اپنے اجلاس میں اس تجویز کی منظوری دی، جس کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو مختلف خدمات کے عوض فیس ادا کرنا ہوگی۔
رپورٹس کے مطابق یہ رقم جہازوں کو فراہم کی جانے والی ایندھن، انشورنس، سکیورٹی اور دیگر سہولتوں کے بدلے وصول کی جائے گی۔ فیس کی ادائیگی ایرانی ریال کے علاوہ دیگر کرنسیوں میں بھی کی جاسکے گی۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی نے اس معاملے کی منظوری دے دی ہے، تاہم اس فیصلے پر عمل درآمد کے طریقہ کار اور فیس کی تفصیلات سے متعلق مزید معلومات سامنے آنا باقی ہیں۔
آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران نے امریکا کے سامنے شرائط رکھ دیں
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی منڈی کے لیے بڑی مقدار میں خام تیل اور ایل این جی کی ترسیل ہوتی ہے۔
ایران نے مارچ کے آغاز سے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جس کے باعث عالمی توانائی کی منڈی اور تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ عام حالات میں اس اہم آبی گزرگاہ سے روزانہ تقریباً 2 کروڑ بیرل تیل اور دنیا بھر کی ایل این جی تجارت کا قریب 20 فیصد حصہ گزرتا ہے۔
