اوپیک پلس کی جانب سے تیل کی پیداوار بڑھانے کے فیصلے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین کے مطابق اضافی سپلائی کی توقعات کے باعث مارکیٹ میں قیمتوں پر دباؤ دیکھنے میں آیا۔
تازہ کاروباری اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل 24 سینٹ کمی کے بعد 71.88 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 11 سینٹ کمی کے ساتھ 68.58 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہوا۔ اسی طرح اماراتی مربن خام تیل کی قیمت تقریباً 66 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
اوپیک پلس نے اگست سے یومیہ 5 لاکھ 48 ہزار بیرل اضافی تیل پیدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ جون اور جولائی میں بھی پیداوار میں اضافے کے اقدامات کیے جا چکے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اضافی پیداوار کے اثرات فوری طور پر مکمل طور پر سامنے نہیں آئیں گے کیونکہ حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل متاثر رہی تھی۔
آبنائے ہرمز کی کشیدگی نے امریکا، ایران مذاکرات پر غیر یقینی کے بادل منڈلا دیے
تجزیہ کاروں کے مطابق خلیجی ممالک نے اب تیل کی برآمدات بحال کرنا شروع کر دی ہیں، جس سے عالمی سپلائی میں بہتری آ رہی ہے۔ اس کے باوجود کئی ممالک ابھی تک اپنے مقررہ پیداواری اہداف حاصل نہیں کر سکے، اس لیے قیمتوں میں بڑی تبدیلی کے امکانات محدود ہیں۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان برقرار رہا تو پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک میں آئندہ دنوں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی کمی کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔
