آبنائے ہرمز کی کشیدگی نے امریکا، ایران مذاکرات پر غیر یقینی کے بادل منڈلا دیے

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

امریکا اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں رواں ہفتے متوقع مذاکرات کے حوالے سے متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حالیہ فوجی جھڑپوں کے باعث مذاکرات مؤخر کر دیے گئے ہیں، جبکہ دیگر ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق ہوں گے۔

latest urdu news

رپورٹس کے مطابق مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد دونوں ممالک نے تکنیکی سطح پر مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا، تاہم گزشتہ دو روز کے دوران آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے اس عمل کو متاثر کیا ہے۔

دوسری جانب امریکی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مذاکرات منسوخ نہیں ہوئے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے ڈی کنفلکشن چینلز کے ذریعے مسلسل جاری ہیں اور شیڈول کے مطابق ملاقات کی تیاری کی جا رہی ہے۔

آبنائے ہرمز واقعے کے بعد امریکا کی ایران پر نئی فضائی کارروائی، فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا

ادھر خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ امریکا نے ایرانی اہداف پر فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ تہران نے امریکی کارروائی کو مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کی وارننگ دی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کو مزید سخت نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر صورتحال میں بہتری نہ آئی تو سنگین اقدامات کیے جا سکتے ہیں، جبکہ ایرانی پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ کسی بھی حملے کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter