اینتھروپک کے فیلوز پروگرام سے وابستہ ایک محقق نے اس بات کی ابتدائی جھلک دکھائی ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی دوسرے ماڈلز کے ذریعے اے آئی ماڈلز کی تربیت ایک نہایت مقبول مقصد بن چکا ہے۔
اینتھروپک نے ’ خودکار محققین ایلائنمنٹ کی ناکامیوں کو قابل اعتماد طریقے سے کم کر سکتے ہیں‘ کے عنوان سے ایک نیا تحقیقی مقالہ شائع کیا۔ اس مقالے میں تفصیل سے بیان کیا گیا کہ کس طرح اے آئی نظام کسی ماڈل کی کارکردگی کو ایلائنمنٹ (یعنی انسانی اقدار سے ہم آہنگی) کے متعدد بینچ مارکس پر مستقل طور پر بہتر بنا سکتے ہیں۔ جب مخصوص غیر ہم آہنگ رویوں کے 10 بینچ مارکس دیے گئے، تو خودکار نظام ان تمام دس بینچ مارکس پر کارکردگی بہتر بنانے میں کامیاب رہے اور مجموعی کارکردگی میں بھی کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔
یہ منصوبہ اینتھروپک کے فیلو چن یوہ ہان کی سربراہی میں مکمل کیا گیا۔ یہ نظام تحقیق کے روایتی طریقہ کار کو کافی حد تک نقل کرتا ہے یعنی یہ خودکار نظام دستیاب تحقیقی لٹریچر کو تلاش کرتا ہے، ایک طریقہ کار تجویز کرتا ہے اور اس طریقے کے ذریعے ماڈل کو 30 منٹ تک تربیت دیتا ہے جبکہ کئی مراحل کے دوران بینچ مارک کو بتدریج بہتر بناتا رہتا ہے۔ مؤثر طریقے برقرار رکھے جاتے ہیں جبکہ غیر مؤثر طریقے مسترد کر دیے جاتے ہیں جس سے یہ نظام تیز رفتاری اور بڑے پیمانے پر کام کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔
مقالے میں لکھا گیا ہے کہ مجموعی طور پر یہ نتائج ابتدائی شواہد فراہم کرتے ہیں کہ خودکار ایلائنمنٹ پوسٹ ٹریننگ مستقبلِ قریب میں عملی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
یہ مقالہ ’ری کرسیو سیلف امپروومنٹ‘ (یعنی مصنوعی ذہانت کا اپنے آپ کو مسلسل بہتر بنانے کا عمل) کی جانب ایک قدم قرار دیا جا رہا ہے جسے بہت سے ماہرین اے آئی کی ترقی میں اگلا اہم سنگ میل تصور کرتے ہیں۔ اگر ماڈلز اپنی ایلائنمنٹ تربیت کو خود بہتر بنانے کے قابل ہو جائیںتو یہ امکان بھی موجود ہے کہ وہ مجموعی طور پر تربیتی طریقہ کار کو بھی بہتر بنا سکیں جس کے بعد ممکنہ طور پر انسانی اے آئی محققین کی ضرورت کم ہوتی چلی جائے۔
پاکستان میں اے آئی شعبے میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان، شزا فاطمہ
مقالے میں اس نکتے سے گریز نہیں کیا گیا، بلکہ واضح طور پر “خودکار ایلائنمنٹ ریسرچر(اے اے آر) کا اس کے انسانی ہم منصب سے موازنہ کیا گیا ہے۔ مقالے کے مطابق بہترین اے اے آر طریقہ اوسطاً 6 گھنٹوں کے اندر تجربہ کار انسانی محققین کی تجویز کردہ کارکردگی سے بہتر نتائج دیتا ہے جبکہ انسانوں کی رہنمائی میں کی جانے والی تحقیقی سمتیں اتنی مضبوط کارکردگی پیدا نہیں کر پاتیں۔
مقالے میں لاگت کا موازنہ بھی پیش کیا گیا ہے: ایک اے اے آر کو چلانے پر اے پی آئی انفرنس کی مد میں تقریباً 4 ڈالر فی گھنٹہ خرچ آتا ہے جبکہ انسانی محققین کو ادا کی جانے والی اجرت تقریباً 150 ڈالر فی گھنٹہ بنتی ہے۔
تاہم مقالے میں اس طریقہ کار کی چند حدود کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ خودکار نظام صرف اسی حد تک مؤثر ہے جس حد تک بینچ مارکس حقیقی ایلائنمنٹ اہداف کی درست عکاسی کرتے ہیں اور اس کے باوجود بھی ان بینچ مارکس کو قائم اور برقرار رکھنے میں کافی کام باقی ہے اس کے علاوہ اس لٹریچر کو بھی برقرار اور وسعت دینے کی ضرورت ہے جس سے خودکار محققین استفادہ کرتے ہیں۔
