گوجرانوالہ: کمشنر گوجرانوالہ و گجرات ڈویژن محمد علی نے کہا ہے کہ صوبے میں زراعت کا فروغ حکومت پنجاب کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے شروع کی گئی ’’اپنا کھیت، اپنا روزگار‘‘ سکیم بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جس کے ذریعے بے زمین افراد کو زرعی اراضی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ غیر آباد زمینوں کو قابلِ کاشت بنانے میں مدد ملے گی۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے مثالی گاؤں ’’اپنا کھیت، اپنا روزگار‘‘ سکیم کے حوالے سے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ نوید احمد اور متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی، جبکہ ڈویژن کے دیگر اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔
زراعت ملکی ترقی کی بنیاد ہے
کمشنر محمد علی نے کہا کہ زراعت کسی بھی ملک کی معیشت اور ترقی میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اسی سوچ کے تحت حکومت پنجاب کی جانب سے ’’اپنا کھیت، اپنا روزگار‘‘ سکیم شروع کی گئی ہے، جس کا مقصد بے زمین کاشتکاروں اور مستحق خاندانوں کو زرعی سرگرمیوں سے منسلک ہونے کا موقع فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر غیر آباد زمینوں کو مؤثر انداز میں قابلِ کاشت بنایا جائے تو اس سے زرعی پیداوار میں اضافے کے ساتھ دیہی علاقوں میں روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔ یوں یہ سکیم صرف زمین کی فراہمی تک محدود نہیں بلکہ زرعی سرگرمیوں اور مقامی معیشت کے فروغ میں بھی معاون ثابت ہوسکتی ہے۔
بے زمین کاشتکاروں کو روزگار کے مواقع
محمد علی نے کہا کہ ’’اپنا کھیت، اپنا روزگار‘‘ سکیم کا بنیادی مقصد بے زمین افراد کو زرعی اراضی فراہم کرکے انہیں باعزت روزگار اور معاشی خودکفالت کے مواقع دینا ہے۔
ان کے مطابق مستحق خاندانوں کو اپنی زمین دستیاب ہونے سے وہ اپنی محنت اور وسائل کے ذریعے آمدن پیدا کرنے کے قابل ہوسکیں گے۔ اس طرح انہیں اپنے خاندانوں کی ضروریات پوری کرنے اور مستقبل کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
کمشنر نے کہا کہ زرعی شعبے سے وابستہ افراد کے لیے زمین کی دستیابی ایک اہم ضرورت ہے، اس لیے ایسی اسکیموں میں مستحق افراد کا انتخاب شفاف طریقے سے کرنا ضروری ہے۔
اپنا کھیت، اپنا روزگار: 76 امیدواروں کو 211 ایکڑ اراضی مل گئی
زمین کی تقسیم میں شفافیت یقینی بنانے کی ہدایت
کمشنر محمد علی نے ڈپٹی کمشنرز اور دیگر متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ اسکیم پر عملدرآمد کے دوران حکومتی قواعد و ضوابط کی سختی سے پابندی کی جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ بے زمین افراد میں زمین کی تقسیم انتہائی شفاف پالیسی کے تحت کی جائے تاکہ کسی مستحق فرد کی حق تلفی نہ ہو۔ انہوں نے متعلقہ افسران پر زور دیا کہ تمام مراحل کی نگرانی میرٹ اور مقررہ طریقہ کار کے مطابق کی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ زمین کی الاٹمنٹ کے عمل میں شفافیت نہ صرف مستحق افراد کا اعتماد برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے بلکہ حکومتی فلاحی اقدامات کے حقیقی فوائد بھی اسی صورت میں صحیح لوگوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
زرعی خودکفالت کی جانب اہم قدم
کمشنر نے کہا کہ حکومت پنجاب کا مقصد صوبے میں زرعی سرگرمیوں کو فروغ دے کر پیداوار میں اضافہ اور بے زمین خاندانوں کو معاشی طور پر مضبوط بنانا ہے۔ ان کے مطابق غیر آباد زمینوں کو قابلِ کاشت بنا کر زرعی شعبے میں استعمال کرنا صوبے کی مجموعی معاشی ترقی میں بھی کردار ادا کرسکتا ہے۔
انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ’’اپنا کھیت، اپنا روزگار‘‘ سکیم پر عملدرآمد کے دوران میرٹ، شفافیت اور قواعد و ضوابط کو اولین ترجیح دی جائے تاکہ یہ اقدام حقیقی معنوں میں بے زمین افراد کے لیے روزگار، خودکفالت اور بہتر مستقبل کا ذریعہ بن سکے۔
