وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے بنیادی نکات پر اتفاق ہوچکا تھا، تاہم دستخط سے کچھ دیر قبل وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے مطالبات سامنے آنے کے بعد معاہدہ طے نہ پاسکا۔
مذاکرات کامیاب ہونے کی امید تھی، طلال چوہدری
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں معاہدے کے بنیادی نکات پر اتفاق رائے ہوچکا تھا اور ایسا محسوس ہورہا تھا کہ فریقین کسی حتمی نتیجے تک پہنچ گئے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات کے دوران ایک ایسے معاہدے کی امید پیدا ہوگئی تھی جسے وہ ’’میثاق جمہوریت ٹو‘‘ قرار دے رہے تھے، تاہم دستخط سے کچھ دیر پہلے صورتحال تبدیل ہوگئی۔
طلال چوہدری نے الزام عائد کیا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے ایسے مطالبات پیش کیے جن کی وجہ سے مذاکرات کا پورا عمل متاثر ہوا اور طے شدہ معاہدہ آگے نہ بڑھ سکا۔
وزیر مملکت برائے داخلہ کے مطابق اگر آخری مرحلے میں یہ مطالبات سامنے نہ آتے تو حکومت اور اپوزیشن کے درمیان معاہدے پر دستخط ہوسکتے تھے۔
اپوزیشن حقائق سے پردہ پوشی کر رہی ہے، طلال چوہدری
ایک سوال کے جواب میں طلال چوہدری نے اپوزیشن ارکان کے مؤقف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ مذاکرات اور موجودہ صورتحال سے متعلق حقائق کو سامنے نہیں لا رہے۔
انہوں نے نیشنل ایکشن پلان کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ یہ منصوبہ پاکستان تحریک انصاف کے دور میں اس کی قیادت کی جانب سے منظور کیا گیا تھا، تو کیا اس کا مقصد پختونوں یا خیبر پختونخوا کے خلاف اقدامات کرنا تھا؟
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان کو اس کے اصل تناظر میں دیکھا جانا چاہیے اور دہشت گردی کے خلاف قومی سطح پر کیے گئے فیصلوں کو کسی مخصوص علاقے یا قوم کے خلاف قرار دینا درست نہیں۔
سلمان اکرم راجہ نے محسن نقوی کا سہیل آفریدی پر مذاکرات سبوتاژ کرنے کا الزام مسترد کردیا
خیبر پختونخوا میں سکیورٹی صورتحال پر تشویش
وزیر مملکت برائے داخلہ نے خیبر پختونخوا میں سکیورٹی کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں آج کوئی جنازہ، شادی، اجتماع یا سیاسی سرگرمی دہشت گردی کے خطرے سے مکمل طور پر محفوظ نہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک طرف عام شہری اور مختلف اجتماعات دہشت گرد حملوں کے خطرے سے دوچار ہیں جبکہ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے لوگ انہی علاقوں میں گروپوں کی شکل میں نقل و حرکت کر رہے ہیں۔
طلال چوہدری نے سوال اٹھایا کہ اگر ان علاقوں میں سکیورٹی صورتحال اتنی سنگین ہے تو سیاسی جماعت سے وابستہ افراد کی گروپوں کی صورت میں نقل و حرکت کے دوران انہیں دہشت گرد حملوں کا سامنا کیوں نہیں ہوتا؟
انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں ’’کچھ تو ہے‘‘ اور اس معاملے پر سوالات اٹھنا فطری ہیں۔
مذاکراتی عمل اور سیاسی صورتحال
طلال چوہدری کے بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے سیاسی اختلافات برقرار ہیں۔ دونوں جانب سے مذاکرات کے ناکام ہونے کی ذمہ داری ایک دوسرے پر عائد کی جارہی ہے۔
حکومتی مؤقف کے مطابق مذاکرات کے دوران متعدد معاملات پر پیش رفت ہوئی، تاہم آخری مرحلے میں سامنے آنے والے مطالبات کے باعث معاہدہ حتمی شکل اختیار نہ کرسکا۔
دوسری جانب اپوزیشن رہنما حکومتی مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے مذاکرات کے عمل اور حکومت کی جانب سے پیش کی جانے والی شرائط پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔
یوں مذاکرات کی ناکامی کے بعد سیاسی کشیدگی برقرار ہے اور دونوں فریق ایک دوسرے کو ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔
