لاہور میں مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بننے والی آذربائیجانی خاتون کی جانب سے ملزم احمد تنویر کو بے قصور قرار دینے اور دیگر 2 ملزمان کو معاف کرنے کے اعلان کے بعد پنجاب حکومت نے کیس خود آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ مقدمے میں اغوا اور ڈکیتی سمیت دیگر دفعات بھی شامل ہیں، اس لیے خاتون کے بیان کے باوجود قانونی کارروائی جاری رہ سکتی ہے۔
خاتون کے بیان کے باوجود مقدمہ جاری رکھنے کا اعلان
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے جیو نیوز کے پروگرام ’’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں اغوا اور ڈکیتی کی دفعات بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق ان الزامات کی موجودگی میں صرف خاتون کے بیان کی بنیاد پر ملزمان کی رہائی ممکن نہیں ہوگی۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے پاس اس معاملے سے متعلق جو معلومات ہیں، ان پر بات کرنے کے لیے وہ چیف جسٹس پاکستان سے بھی رجوع کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیراعلیٰ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے ساتھ بیٹھ کر معاملے پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔
جج پر رشوت لینے کے الزام سے متعلق دعویٰ
صوبائی وزیر اطلاعات نے گفتگو کے دوران اس معاملے میں ایک جج کی جانب سے مبینہ طور پر رشوت لینے سے متعلق معلومات موجود ہونے کی بھی تصدیق کی۔ تاہم اس حوالے سے سامنے آنے والے دعوے اور الزامات کی آزادانہ تصدیق یا کسی عدالتی فیصلے کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ مریم نواز پنجاب میں غنڈا گردی اور بدمعاشی کا کلچر برداشت نہیں کریں گی۔ ان کے مطابق اگر ایسے معاملات کی روک تھام کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کرنے یا قوانین میں بہتری لانے کی ضرورت ہوئی تو حکومت اس پر کام کرے گی۔
ڈیانا کیس میں نیا موڑ، ضمانت پر رہا ملزم احمد تنویر عدالت سے حراست میں لے لیا گیا
آذربائیجانی خاتون نے احمد تنویر کو بے قصور قرار دے دیا
واضح رہے کہ لاہور میں مبینہ زیادتی کے کیس میں آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی خاتون ڈیانا نے اپنے نئے ویڈیو بیان میں ملزم احمد تنویر کو بے قصور قرار دیا تھا۔
ڈیانا نے کہا کہ تنویر نے ان کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہیں کی اور انہیں سمجھ نہیں آ رہا کہ پولیس نے اسے کس بنیاد پر گرفتار کیا۔ خاتون نے مقدمے میں نامزد دیگر 2 ملزمان محسن اور عزیر کو بھی معاف کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ معاملے کو مزید آگے نہیں بڑھانا چاہتیں۔
خاتون کے اس بیان کے بعد کیس کی قانونی حیثیت اور تفتیش کے حوالے سے سوالات سامنے آئے ہیں۔ تاہم کسی ملزم کی بے گناہی یا جرم کا حتمی تعین متعلقہ شواہد، تفتیش اور عدالتی کارروائی کی بنیاد پر ہی کیا جا سکتا ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے مقدمہ آگے بڑھانے کے اعلان کے بعد اب اس معاملے میں آئندہ قانونی پیش رفت اہم ہوگی۔
