پاور ڈویژن نے درآمدی کوئلے کی خریداری میں خامیوں کی نشاندہی کردی

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

نئے طریقہ کار کے تحت کوئلے کی خریداری میں شفافیت بڑھانے اور پہلے مرحلے میں سالانہ 38 کروڑ روپے کی بچت کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

latest urdu news

اسلام آباد: پاور ڈویژن نے ملک کے کوئلہ سے چلنے والے بجلی گھروں کے لیے درآمدی کوئلے کی خریداری کے طریقہ کار میں بعض خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اصلاحات متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام کے مطابق نئے اقدامات کا مقصد ایندھن کی خریداری میں مسابقت، شفافیت اور بہتر قیمتوں کو یقینی بنانا ہے تاکہ بجلی کی پیداواری لاگت میں غیر ضروری اضافے کو روکا جا سکے۔

پاور ڈویژن کے مطابق درآمدی کوئلے کی خریداری سے متعلق نیپرا کو نئی اصلاحی گائیڈ لائنز بھی جاری کردی گئی ہیں۔ ان رہنما اصولوں کے تحت خریداری کے ابتدائی مرحلے ہی میں سالانہ تقریباً 38 کروڑ روپے کی بچت متوقع ہے۔

مختلف پاور پلانٹس کو ایک ہی سپلائر سے مختلف رعایتیں

پاور ڈویژن نے کوئلے کی خریداری کے اصل ڈیٹا، مختلف معاہدوں اور مارکیٹ میں رائج طریقہ کار کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس سلسلے میں وزیر توانائی اویس لغاری کی زیر صدارت متعدد اجلاس بھی ہوئے۔

جائزے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ بعض صورتوں میں ایک ہی عالمی سپلائر نے مختلف پاور پلانٹس کو کوئلے پر مختلف رعایتیں فراہم کیں۔ پاور ڈویژن کے مطابق مختلف پلانٹس کو 25 سینٹ سے 7.12 ڈالر فی ٹن تک الگ الگ رعایتیں ملتی رہیں۔

حکام کے مطابق بعض بیک اپ سپلائی معاہدوں میں مرکزی سپلائی معاہدوں کے مقابلے میں زیادہ رعایت حاصل کی گئی، جبکہ بعض مواقع پر پاور پلانٹس نے زیادہ رعایت دینے والے سپلائر سے کوئلہ خریدنے کے بجائے کم رعایت والے سپلائر سے خریداری جاری رکھی۔

25 کلوواٹ تک سولر صارفین کے لیے نئے قواعد پر تنازع — پاور ڈویژن کی نظرثانی کی درخواست

بہترین دستیاب رعایت کا اصول متعارف

پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ حکومت درآمدی کوئلے کی خریداری اور اس کی ترسیل کے نظام میں اصلاحات لا رہی ہے۔ نئے طریقہ کار کے تحت بہترین دستیاب رعایت کا اصول متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس اصول کے تحت کول پاور پلانٹس کو ایسے عالمی سپلائر سے کوئلہ خریدنے کی اجازت نہیں ہوگی جو اسی مارکیٹ میں بہتر رعایت فراہم کرنے والے سپلائر کے مقابلے میں کم رعایت دے رہا ہو۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد خریداری کے عمل کو زیادہ مسابقتی بنانا اور مختلف پلانٹس کے لیے یکساں اور بہتر تجارتی شرائط حاصل کرنا ہے۔

اضافی لاگت کا بوجھ صارفین پر منتقل ہونے کا معاملہ

پاور ڈویژن کے مطابق کوئلے کی خریداری میں مؤثر رعایت حاصل نہ ہونے کے باعث پیدا ہونے والی اضافی لاگت بالآخر بجلی کے صارفین پر منتقل ہو رہی تھی۔ چونکہ بجلی کی پیداوار میں استعمال ہونے والے ایندھن کی لاگت بجلی کے نرخوں کے ذریعے صارفین سے وصول کی جاتی ہے، اس لیے ایندھن کی خریداری میں معمولی فرق بھی مجموعی لاگت پر اثر ڈال سکتا ہے۔

وزیر توانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ پاور ڈویژن دستیاب ڈیٹا اور مارکیٹ کے تجزیے کی بنیاد پر ان خامیوں کی نشاندہی کر رہا ہے اور انہیں مؤثر ریگولیٹری و پالیسی اقدامات کے ذریعے دور کیا جا رہا ہے۔

اصلاحات کا مقصد بجلی صارفین کو ریلیف دینا ہے

اویس لغاری کے مطابق کوئلے کی خریداری کے معاملات میں حکومتی مداخلت کا مقصد تجارتی سرگرمیوں میں غیر ضروری دخل اندازی نہیں، بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ بجلی کی پیداوار کے لیے ایندھن مسابقتی قیمت اور شفاف طریقہ کار کے تحت خریدا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اصلاحاتی اقدامات سے حاصل ہونے والی بچت کا براہِ راست فائدہ بجلی صارفین تک پہنچایا جائے گا۔ پاور ڈویژن کے مطابق غیر ضروری اخراجات ختم کرکے ایندھن کی خریداری کو زیادہ مؤثر اور شفاف بنانا اصلاحات کا بنیادی مقصد ہے، جس سے بجلی کی مجموعی پیداواری لاگت کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter