پاکستان میں قابلِ تجدید توانائی خصوصاً سولر انرجی کے فروغ کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس میں پاور ڈویژن نے نیپرا کے نئے مجوزہ ضوابط پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس معاملے نے چھوٹے سولر صارفین اور توانائی کے شعبے میں پالیسی سازی کے درمیان بحث کو دوبارہ اجاگر کر دیا ہے۔
نئے سولر قواعد اور پاور ڈویژن کا مؤقف
پاور ڈویژن نے نیپرا سے “پروزیومر ریگولیشنز 2026” کے بعض نکات پر فوری نظرثانی کی درخواست کی ہے۔ اعلامیے کے مطابق پہلے بھی ان تبدیلیوں کے ممکنہ منفی اثرات سے آگاہ کیا گیا تھا، لیکن اب بھی خدشہ ہے کہ یہ قواعد چھوٹے پیمانے پر سولر سسٹمز کے فروغ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ موجودہ اصلاحات قابلِ تجدید توانائی کے قومی اہداف کو متاثر کر سکتی ہیں۔
2015 کے پرانے نظام سے تبدیلی
ذرائع کے مطابق 2015 کے ضوابط کے تحت 25 کلوواٹ یا اس سے کم سولر سسٹمز کے لیے نیپرا سے لائسنس کی ضرورت نہیں تھی۔ ان درخواستوں کو ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے ذریعے بغیر کسی فیس کے پروسیس کیا جاتا تھا، جس سے چھوٹے صارفین کے لیے نظام نسبتاً آسان تھا۔
نئے مجوزہ قواعد میں یہ سہولت تبدیل کر دی گئی ہے، اور اب کچھ منظوریوں کے لیے نیپرا کو براہِ راست اختیار حاصل ہوگا۔
نئی فیس اور منظوری کے تقاضے
پاور ڈویژن کے مطابق نئے ریگولیشنز میں چھوٹے سولر سسٹمز پر بھی ایپلیکیشن فیس عائد کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ منظوری کے عمل کو زیادہ مرکزی سطح پر نیپرا کے دائرہ اختیار میں دے دیا گیا ہے، جس سے طریقۂ کار پیچیدہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اسی وجہ سے پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (PPIB) نے بھی اس تبدیلی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
سولر لائسنسنگ سے متعلق نیپرا کی وضاحت، غلط فہمیوں کی تردید
سولر انرجی پر ممکنہ اثرات
ماہرین اور متعلقہ اداروں کے مطابق اگر یہ طریقہ کار برقرار رہتا ہے تو چھوٹے اور گھریلو سطح پر سولر انرجی کے منصوبوں کی رفتار سست ہو سکتی ہے۔ پاکستان میں پہلے ہی توانائی کے بحران اور مہنگی بجلی کے باعث سولر سسٹمز کی مانگ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
اسی لیے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اضافی فیس اور پیچیدہ منظوری کا عمل عام صارفین کو سولر انرجی سے دور کر سکتا ہے۔
مجموعی صورتحال
پاکستان میں قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کے لیے پالیسی سطح پر توازن برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ ایک طرف ریگولیٹری نگرانی ضروری ہے، جبکہ دوسری طرف آسان اور سستا نظام عوامی سطح پر سولر انرجی کے فروغ کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ نیپرا پاور ڈویژن کی اس نظرثانی کی درخواست پر کیا مؤقف اختیار کرتا ہے اور مستقبل میں سولر صارفین کے لیے قواعد کس حد تک آسان یا سخت بنتے ہیں۔
