پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ٹیکس اور لیوی کا بڑا حصہ، لاگت کے مقابلے میں فی لیٹر 100 روپے سے زائد اضافہ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد: ملک میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں بنیادی لاگت کے مقابلے میں لیوی، ٹیکسز اور مختلف مارجنز کی مد میں 100 روپے سے زائد وصول کیے جا رہے ہیں، جس کے باعث صارفین کو ایندھن مہنگی قیمت پر خریدنا پڑ رہا ہے۔

latest urdu news

دستاویزات کے مطابق ایک لیٹر پیٹرول کی بنیادی لاگت 209 روپے 76 پیسے ہے، تاہم مختلف سرکاری محصولات اور مارجنز شامل ہونے کے بعد اس کی سرکاری قیمت 335 روپے 18 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ اس طرح ایک لیٹر پیٹرول پر مجموعی طور پر 125 روپے 42 پیسے اضافی وصول کیے جا رہے ہیں۔

پیٹرول کی قیمت میں 80 روپے پیٹرولیم لیوی، 5 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی، 17 روپے 28 پیسے کسٹمز ڈیوٹی، 7 روپے 16 پیسے ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن، 7 روپے 87 پیسے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن اور 8 روپے 64 پیسے ڈیلرز مارجن شامل ہے۔

اسی طرح ایک لیٹر ہائی اسپیڈ ڈیزل کی بنیادی لاگت 270 روپے 92 پیسے ہے، جبکہ اس کی سرکاری قیمت 383 روپے 46 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ اس حساب سے ڈیزل پر 112 روپے 54 پیسے لیوی، ٹیکسز اور مختلف مارجنز کی مد میں وصول کیے جا رہے ہیں۔

حکومت نے ایک بار پھر پیٹرول اور ڈیزل مہنگا کر دیا، دو روز میں بڑا اضافہ

دستاویزات کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 70 روپے 82 پیسے پیٹرولیم لیوی، 5 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی، 15 روپے 68 پیسے کسٹمز ڈیوٹی، 4 روپے 53 پیسے ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن، 7 روپے 87 پیسے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن اور 8 روپے 64 پیسے ڈیلرز مارجن شامل ہیں۔

یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پیٹرولیم مصنوعات کی حتمی قیمت میں بنیادی لاگت کے علاوہ حکومتی محصولات اور سپلائی چین سے متعلق اخراجات نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter