اسلام آباد میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ کمی کے باوجود عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل سکا، اور پیٹرول و ہائی اسپیڈ ڈیزل اب بھی مہنگی سطح پر برقرار ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں کے دوران قیمتوں میں بار بار اضافہ اور کمی کے باوجود مجموعی طور پر بوجھ کم نہیں ہو سکا۔
قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ
گزشتہ 36 دنوں کے دوران حکومت کی جانب سے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں متعدد بار تبدیلی کی گئی۔ اس عرصے میں تین مرتبہ قیمتوں میں اضافہ اور تین مرتبہ کمی کی گئی، تاہم مجموعی رجحان اب بھی صارفین کے لیے مہنگائی کا باعث بنا ہوا ہے۔
حکام کے مطابق اس غیر مستقل قیمتوں کے نظام نے عوام میں بھی بے یقینی پیدا کی ہے، کیونکہ ہر نئی قیمت کے اعلان کے بعد صارفین کو مکمل اور دیرپا ریلیف حاصل نہیں ہو رہا۔
ڈیزل کی قیمت میں مجموعی اضافہ برقرار
اعداد و شمار کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت گزشتہ 36 دنوں میں مجموعی طور پر 61 روپے 16 پیسے فی لیٹر تک بڑھائی گئی، جس کے بعد بعد میں 33 روپے 80 پیسے کی کمی کی گئی۔ اس کمی کے باوجود مجموعی طور پر اب بھی 27 روپے 36 پیسے فی لیٹر کا اضافہ برقرار ہے۔
یہ صورتحال خاص طور پر ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے، کیونکہ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست اشیائے خوردونوش اور نقل و حمل کے اخراجات پر اثر ڈالتا ہے۔
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کر دیا
لیوی بوجھ میں کمی نہ ہو سکی
رپورٹس کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی بوجھ میں بھی کوئی خاطر خواہ کمی نہیں کی گئی، جس کے باعث قیمتوں میں کمی کے باوجود اصل ریلیف عام صارفین تک مکمل طور پر منتقل نہیں ہو سکا۔
ماہرین کے مطابق جب تک ٹیکسز اور لیوی میں واضح کمی نہیں کی جاتی، اس وقت تک عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا فائدہ عام صارف تک مکمل طور پر نہیں پہنچ پاتا۔
عوامی ردعمل اور مہنگائی کا دباؤ
عوام کی بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ بار بار قیمتوں میں تبدیلی کے باوجود مہنگائی کا دباؤ برقرار ہے۔ خاص طور پر ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور روزمرہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ گھریلو بجٹ پر براہِ راست اثر ڈال رہا ہے۔
ماہرین معاشیات کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام ہی معاشی بہتری اور عوامی ریلیف کی طرف پہلا قدم ہو سکتا ہے، بصورت دیگر اتار چڑھاؤ کا یہ سلسلہ معیشت میں غیر یقینی صورتحال کو بڑھاتا رہے گا۔
