حکومت کی نئی آٹو پالیسی کا اعلان، گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کا امکان

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

وفاقی حکومت نے نئی آٹو پالیسی متعارف کرا دی ہے، جس کے تحت الیکٹرک گاڑیوں کی فنانسنگ کی حد بڑھانے، چارجنگ اسٹیشنز کے آلات پر ٹیکس میں کمی اور مقامی گاڑیوں کی پیداوار و برآمدات کو فروغ دینے کے اقدامات کیے گئے ہیں۔ حکومت کو توقع ہے کہ نئی پالیسی سے گاڑیوں کی تیاری کے اخراجات کم ہوں گے اور صارفین کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

latest urdu news

اسلام آباد میں وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر نے نئی آٹو پالیسی کا اعلان کیا۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت نے الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری کے لیے فنانسنگ کی حد 20 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کر دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری میں آسانی پیدا کرنا اور ملک میں ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں اور چارجنگ اسٹیشنز پر خصوصی مراعات

نئی آٹو پالیسی کے تحت الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز میں استعمال ہونے والے آلات پر کسٹم ڈیوٹی کم کرکے ایک فیصد جبکہ سیلز ٹیکس صفر کر دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ایک ہزار سی سی سے کم انجن کی گاڑیوں پر کوئی اضافی ٹیکس عائد نہیں کیا گیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے گاڑیوں کی تیاری اور متعلقہ شعبوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوگی۔

ہارون اختر نے کہا کہ الیکٹرک گاڑیوں کے شعبے کو متعدد مراعات دی گئی ہیں، جبکہ نئی پالیسی میں مقامی سطح پر گاڑیوں کی پیداوار اور برآمدات بڑھانے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔

گاڑیوں کی تیاری کے اخراجات کم کرنے کا ہدف

مشیر برائے صنعت و پیداوار کے مطابق نئی آٹو پالیسی سے گاڑیاں بنانے کے اخراجات میں بھی کمی آئے گی۔ حکومت کی ترجیحات میں گاڑیوں کے حفاظتی معیار کو بہتر بنانا اور مقامی آٹو انڈسٹری کو مزید ترقی دینا شامل ہے۔

آئی ایم ایف کا دباؤ، گاڑیوں کی قیمتوں میں ممکنہ کمی، مقامی صنعت کے لیے نئی آزمائش

انہوں نے کہا کہ درآمدی پیٹرولیم مصنوعات اور ملکی امپورٹ بل میں کمی لانا بھی پالیسی کے اہم اہداف ہیں۔ ان کے مطابق درآمدی اخراجات میں بچنے والا سرمایہ صحت اور تعلیم جیسے اہم شعبوں پر خرچ کیا جا سکے گا۔

مڈل کلاس کو سہولت دینے پر توجہ ہے، عطا اللہ تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم کی توجہ مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس طبقے کو سہولت فراہم کرنے پر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال سے ماحول کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے مقامی آٹو انڈسٹری کے حوالے سے کہا کہ حکومت نے اسے تحفظ فراہم کیا، لیکن صنعت کی جانب سے صارفین کے لیے کوئی نئی سہولت متعارف نہیں کرائی گئی۔

عطا اللہ تارڑ نے دنیا بھر کی کار ساز کمپنیوں کو پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرنے کی دعوت بھی دی۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی کمپنیوں کے لیے پاکستان میں سرمایہ کاری اور الیکٹرک گاڑیوں کی مقامی پیداوار شروع کرنے کا موقع موجود ہے۔

حکومت کو امید ہے کہ نئی آٹو پالیسی سے مقامی پیداوار میں اضافہ، گاڑیوں کی تیاری کے اخراجات میں کمی اور الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فروغ ملے گا۔ تاہم گاڑیوں کی قیمتوں میں حقیقی کمی کا انحصار پالیسی کے عملی نفاذ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی لاگت کی تبدیلی پر ہوگا۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں