وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم کے تحت صارفین کو سبسڈی فراہم نہ کرنے والے ملک بھر کے 163 پیٹرول پمپس کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے، پیٹرولیم ڈویژن نے اوگرا اور نیسپا کو مراسلہ ارسال کردیا۔
اسلام آباد: وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم پر عمل درآمد نہ کرنے والے پیٹرول پمپس کے خلاف حکومتی کارروائی کی تیاری کرلی گئی ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن نے اس سلسلے میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور نیسپا کو خط لکھ کر متعلقہ پیٹرول پمپس کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت کی ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے ارسال کیے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر میں 163 پیٹرول پمپس وزیراعظم کی فیول سبسڈی اسکیم کے تحت صارفین کو ریلیف فراہم کرنے میں ناکام رہے، اس لیے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔
پنجاب میں سب سے زیادہ پیٹرول پمپس اسکیم پر عمل درآمد میں ناکام
پیٹرولیم ڈویژن نے اوگرا اور نیسپا کو ان پیٹرول پمپس کی فہرست بھی فراہم کردی ہے جن کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے فیول ریلیف اسکیم پر عمل درآمد نہیں کیا۔
فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں ایسے پیٹرول پمپس کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ صوبے کے 106 پیٹرول پمپس پر اسکیم کے تحت سبسڈی فراہم نہ کرنے کا الزام ہے۔
اسی طرح سندھ کے 47 پیٹرول پمپس بھی صارفین کو پیٹرول پر سبسڈی دینے سے انکار کرنے والوں میں شامل ہیں۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسکیم پر عمل درآمد نہ کرنے والے زیادہ تر پیٹرول پمپس پنجاب اور سندھ میں واقع ہیں۔
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی، نئی قیمتوں کا اعلان
خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کے پیٹرول پمپس بھی فہرست میں شامل
پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق خیبرپختونخوا میں بھی 5 پیٹرول پمپس فیول ریلیف اسکیم پر عمل نہیں کر رہے، جبکہ گلگت بلتستان کے مزید 5 پیٹرول پمپس بھی اسی فہرست میں شامل ہیں۔
اس طرح پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کے مجموعی طور پر 163 پیٹرول پمپس کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
اوگرا اور نیسپا کو کارروائی کی ہدایت
پیٹرولیم ڈویژن نے اپنے خط میں متعلقہ اداروں کو پیٹرول پمپس کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے کہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم پر عمل درآمد یقینی بنانا اور مستحق صارفین تک سبسڈی کی فراہمی کو ممکن بنانا ہے۔
تاہم مراسلے میں مجوزہ کارروائی کی نوعیت، ممکنہ جرمانوں یا لائسنس سے متعلق اقدامات کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ اب متعلقہ اداروں کی جانب سے فراہم کردہ فہرست کی بنیاد پر کارروائی کی جائے گی۔
