حکومت نے بجلی اور گیس صارفین کو سبسڈی فراہم کرنے کے لیے نیا طریقہ کار تیار کر لیا ہے، تاہم آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ بجلی صارفین کے لیے یہ نظام یکم جنوری اور گیس صارفین کے لیے فروری 2027 سے نافذ کیا جائے۔
اسلام آباد: حکومت نے بجلی اور گیس کے صارفین کو ریلیف دینے کے موجودہ طریقہ کار میں تبدیلی کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ اس مقصد کے لیے پاور ڈویژن اور وزارت پیٹرولیم نے نئی اکنامک سوشل رجسٹری تیار کر لی ہے، جس کے ذریعے صارفین کو سبسڈی فراہم کرنے کا نیا نظام متعارف کرایا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق نئے نظام پر عمل درآمد سے پہلے اس کا ٹیسٹ رن کیا جائے گا، تاکہ عملی نفاذ سے قبل طریقہ کار کا جائزہ لیا جا سکے اور ضروری معاملات کو حتمی شکل دی جا سکے۔
نئے سبسڈی نظام کا فیصلہ کون کرے گا؟
ذرائع کا کہنا ہے کہ بجلی اور گیس صارفین کے لیے سبسڈی کے نئے طریقہ کار پر عمل درآمد کا فیصلہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں قائم اسٹیئرنگ کمیٹی کرے گی۔
اس کمیٹی کے سامنے نئے نظام کے نفاذ سے متعلق معاملات رکھے جائیں گے، جس کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے تیار کردہ اکنامک سوشل رجسٹری کو اس نئے نظام کی بنیاد بنایا گیا ہے۔
آئی ایم ایف کی نئی نظام کے نفاذ کے لیے شرط
ذرائع کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بجلی صارفین کے لیے یکم جنوری 2027 جبکہ گیس صارفین کے لیے فروری 2027 سے سبسڈی کا نیا نظام نافذ کرنے کی شرط رکھی ہے۔
صنعتی اور زرعی صارفین کے لیے اضافی بجلی پر ریلیف کم کرنے کا فیصلہ
دوسری جانب حکومت موجودہ سبسڈی کے طریقہ کار کو 30 جون 2027 تک برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر موجودہ ریلیف میں مزید 6 ماہ توسیع کا معاملہ آئی ایم ایف کے سامنے اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں کو ریلیف دینے کی کوشش
ذرائع کے مطابق حکومت 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے موجودہ سبسڈی میں مزید 6 ماہ کی توسیع حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اس معاملے پر آئی ایم ایف سے بات چیت کی جائے گی تاکہ صارفین کو موجودہ طریقہ کار کے تحت ریلیف جاری رکھنے کا موقع مل سکے۔
نئے نظام کے نفاذ اور موجودہ سبسڈی میں توسیع سے متعلق حتمی فیصلہ اہمیت کا حامل ہوگا، کیونکہ اس سے بجلی اور گیس صارفین کو فراہم کیے جانے والے ریلیف کا طریقہ کار تبدیل ہو سکتا ہے۔ تاہم نئے نظام کی تفصیلات اور اس کے تحت سبسڈی کے اہل صارفین کے تعین کا طریقہ کار ابھی واضح نہیں کیا گیا۔
