مدر اینڈ چائلڈ اسپتال کی عمارت کو ڈی ایچ کیو قرار دینے کے بعد سہولیات پر شدید دباؤ، شہریوں نے پرانی عمارت بحال کرنے کا مطالبہ کر دیا۔
میانوالی: ضلع میانوالی میں ضلعی ہیڈکوارٹر (ڈی ایچ کیو) اسپتال کی منتقلی کے معاملے پر مریضوں اور شہریوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق تقریباً 450 بیڈز پر مشتمل ڈی ایچ کیو اسپتال کو 200 بیڈز والے مدر اینڈ چائلڈ اسپتال کی عمارت میں منتقل کر دیا گیا، جس کے بعد طبی سہولیات شدید دباؤ کا شکار ہو گئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق چند ماہ قبل ایک حکومتی دورے سے قبل مدر اینڈ چائلڈ اسپتال کی عمارت پر موجود نام کی تختی ہٹا کر اسے ڈی ایچ کیو اسپتال قرار دے دیا گیا اور راتوں رات مختلف شعبے نئی عمارت میں منتقل کر دیے گئے۔
مقامی ذرائع کے مطابق محدود گنجائش والی عمارت میں مریضوں کی تعداد بڑھنے سے وارڈز، سیوریج، کولنگ اور کچن سمیت بنیادی سہولیات متاثر ہو گئی ہیں۔ بعض وارڈز میں ایک ہی بیڈ پر دو، دو مریضوں کو رکھنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جبکہ شہریوں کا کہنا ہے کہ اسپتال میں ایمرجنسی سہولت بھی مؤثر انداز میں دستیاب نہیں۔
مشیر صحت پنجاب کا جہلم ڈی ایچ کیو اسپتال کا دورہ، یومِ آزادی پر مریضوں میں تحائف تقسیم
شدید گرمی اور سہولیات کی کمی کے باعث مریضوں اور ان کے لواحقین نے اسپتال کے باہر احتجاج کرتے ہوئے سڑک بلاک کر دی۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ڈی ایچ کیو اسپتال کو اس کی سابقہ عمارت میں منتقل کیا جائے، جو ان کے بقول کئی ماہ سے خالی پڑی ہے۔
واضح رہے کہ مذکورہ دعوؤں اور الزامات پر متعلقہ ضلعی انتظامیہ یا محکمہ صحت کی جانب سے اس خبر کے وقت تک کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔
