ذرائع کے مطابق لیسکو میں اعلیٰ افسران کو مفت بجلی کے سالانہ یونٹس کی سہولت ختم ہونے کے بعد پہلی مرتبہ بجلی کے بل ادا کرنا پڑے، جبکہ دیگر ڈسکوز میں اس معاملے پر قانونی کارروائیاں جاری ہیں۔
لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) میں گریڈ 18 سے گریڈ 20 تک کے افسران کے لیے مفت بجلی کے یونٹس کی سہولت ختم کر دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس فیصلے کے نتیجے میں تقریباً 30 برس بعد پہلی مرتبہ ان افسران نے اپنے بجلی کے بل باقاعدہ ادا کیے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدام توانائی کے شعبے میں مراعات کے نظام پر نظرثانی کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جبکہ اس معاملے پر دیگر بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) میں مختلف قانونی پیش رفت بھی جاری ہے۔
پہلے کتنے مفت یونٹس دیے جاتے تھے؟
ذرائع کے مطابق اس فیصلے سے قبل لیسکو کے مختلف گریڈز کے افسران کو سالانہ بنیادوں پر مفت بجلی کے یونٹس فراہم کیے جاتے تھے۔
اس پالیسی کے تحت:
- گریڈ 18 کے افسران کو سالانہ 6 ہزار یونٹس مفت ملتے تھے۔
- گریڈ 19 کے افسران کے لیے 8 ہزار یونٹس مختص تھے۔
- گریڈ 20 کے افسران کو 10 ہزار یونٹس سالانہ مفت فراہم کیے جاتے تھے۔
ذرائع کے مطابق سہولت کے خاتمے کے بعد ان افسران نے پہلی بار اپنے بجلی کے بل اپنی جیب سے ادا کیے ہیں۔
لاہور میں بجلی کا بحران شدت اختیار کر گیا: لیسکو شارٹ فال 850 میگاواٹ سے تجاوز
دیگر ڈسکوز میں صورتحال مختلف
ذرائع کا کہنا ہے کہ لیسکو کے برعکس ملک کی بعض دیگر بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے افسران نے مفت بجلی کی سہولت برقرار رکھنے کے لیے عدالتوں سے رجوع کیا۔
رپورٹس کے مطابق بعض ڈسکوز کے افسران عدالتوں سے حکمِ امتناع حاصل کرنے میں کامیاب رہے، جس کے بعد وہاں یہ سہولت فی الحال بحال ہے۔ تاہم اس حوالے سے قانونی کارروائیاں مختلف عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔
لیسکو افسران کا یکساں پالیسی کا مطالبہ
دوسری جانب لیسکو کے بعض افسران کا مؤقف ہے کہ اگر ایک ادارے میں مفت بجلی کی سہولت ختم کی گئی ہے تو یہی پالیسی تمام بجلی تقسیم کار کمپنیوں پر یکساں طور پر لاگو ہونی چاہیے۔
ان کا کہنا ہے کہ دیگر ڈسکوز میں مفت بجلی کی سہولت کی بحالی غیر قانونی ہے اور اس سے مختلف اداروں کے ملازمین کے درمیان امتیازی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔
وزارتِ توانائی سے واضح پالیسی کی درخواست
لیسکو سے وابستہ افسران نے وزارتِ توانائی سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے پر ملک بھر کی تمام بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے لیے ایک واضح اور یکساں پالیسی مرتب کی جائے، تاکہ تمام اداروں میں یکساں اصولوں کے تحت فیصلے نافذ کیے جا سکیں۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر آئندہ حکومتی فیصلوں اور عدالتی کارروائیوں کے بعد دیگر ڈسکوز میں بھی مفت بجلی کی سہولت کے مستقبل کے بارے میں مزید صورتحال واضح ہونے کا امکان ہے۔
