اسلام آباد میں جاری پسِ پردہ رابطوں اور مفاہمتی کوششوں کے بعد بشریٰ بی بی کی بیٹی کو جلد اڈیالہ جیل میں اپنی والدہ سے ملاقات کی اجازت ملنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ پیشرفت فیملی ملاقاتوں سے متعلق کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ غیر رسمی رابطوں کے ذریعے متعلقہ حکام سے بات چیت جاری ہے، جس کے بعد ملاقات کی راہ ہموار ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ اس سے پہلے بھی بشریٰ بی بی کی بیٹی کو ملاقات کی اجازت دی گئی تھی، تاہم ملاقات کی تفصیلات منظرِ عام پر آنے کے بعد مزید درخواستوں میں مشکلات پیش آئیں۔
ذرائع کے مطابق حکام نے ملاقات سے متعلق معلومات کے سوشل میڈیا پر آنے کو طے شدہ مفاہمت کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ اسی وجہ سے بعد میں ملاقاتوں کے معاملے میں سختی دیکھی گئی۔
دوسری جانب عمران خان کی بہنوں کی ان سے ملاقات کرانے کیلئے بھی کوششیں جاری ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے پیشرفت اس شرط سے مشروط ہو سکتی ہے کہ اہلِ خانہ ملاقاتوں سے متعلق عوامی بیانات دینے سے گریز کریں گے۔
جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال
ادھر خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کے بعض حالیہ بیانات پر بھی سرکاری حلقوں میں تحفظات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ معاملہ بعد ازاں پاکستان تحریکِ انصاف کی قیادت تک پہنچایا گیا، جبکہ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
