اسلام آباد: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کی بقا اور قومی سلامتی کا بنیادی معاملہ ہے، جبکہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کے منافی ہے۔
سندھ طاس معاہدے سے متعلق منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے، تاہم پائیدار امن اسی صورت ممکن ہے جب سندھ طاس معاہدے پر مکمل عمل درآمد اور اس کی بحالی کو یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کو اپنے بین الاقوامی وعدوں کی پاسداری کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کی شرائط پر عمل کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق سندھ، جہلم اور چناب کے دریاؤں کے پانی پر پاکستان کا حق عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے اور اس حق کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ آبی وسائل کو محض تکنیکی یا انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کے آبی حقوق کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کا قومی سطح پر بھرپور جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے جنگ بندی سے متعلق اپنی ذمہ داریوں پر عمل کیا، لیکن بھارت نے اپنے وعدوں کی مکمل پاسداری نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے عوام کے بنیادی حقوق، خصوصاً پانی کے حق، پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا
