اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پاکستان میں 2027ء تک سود سے پاک مالیاتی نظام کی تیاری کے لیے جامع حکمت عملی پر عمل درآمد کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق اس منصوبے پر حکومت، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) مشترکہ طور پر کام کریں گے تاکہ اسلامی مالیاتی نظام کی جانب مرحلہ وار منتقلی ممکن بنائی جا سکے۔
وزارت خزانہ کے مطابق 2025ء تک ملک کے مالیاتی شعبے کے مجموعی اثاثوں کا حجم 79 ہزار 780 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا 68.5 فیصد بنتا ہے۔ ان میں سے 63 ہزار 231 ارب روپے کے اثاثے بینکاری شعبے کے پاس ہیں، جبکہ نان بینکنگ مالیاتی اداروں کے اثاثوں کا حجم 6 ہزار 844 ارب روپے ہے۔
حکمت عملی کے تحت اسلامی مالیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے سکوک کے اجرا کا باقاعدہ نظام متعارف کرایا جائے گا، جبکہ قلیل مدتی (شارٹ ٹرم) سکوک کے اجرا کو بھی تیز کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ وفاقی اور صوبائی قوانین میں ضروری ترامیم اور شریعت سے ہم آہنگ قانونی اصلاحات بھی کی جائیں گی۔
وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ بینکوں کے آئی ٹی نظام کو اسلامی بینکاری کے تقاضوں کے مطابق اپ گریڈ کیا جائے گا، جبکہ بینکاری عملے کی خصوصی تربیت کا بھی انتظام کیا جائے گا تاکہ نئے نظام پر مؤثر انداز میں عمل درآمد ممکن ہو سکے۔
سینیٹ میں دنیش کمار کی سودی نظام پر تنقید، ایران سے پیٹرول درآمد قانونی بنانے کا مطالبہ
منصوبے کے مطابق 2027ء کے بعد نئی سرکاری فنانسنگ شریعت کے اصولوں کے مطابق کی جائے گی، جبکہ روایتی قرضوں کو مرحلہ وار اسلامی فنانسنگ میں تبدیل کیا جائے گا۔ اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کو بھی اسلامی مالیاتی اصولوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا، تاہم وزارت خزانہ نے واضح کیا ہے کہ یہ تمام تبدیلیاں مالیاتی استحکام برقرار رکھتے ہوئے مرحلہ وار نافذ کی جائیں گی۔
