وائٹ ہاؤس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز سے متعلق حالیہ بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر نے آبنائے کو امریکی علاقہ قرار دینے کی بات سنجیدہ اقدام کے طور پر نہیں بلکہ مذاقاً کی تھی۔
امریکی اخبار کے صحافی برائن شوارٹز کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا ہے کہ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ کے بعد آبنائے ہرمز کو امریکا کا حصہ قرار دینے کے حوالے سے اپنے مشیروں سے کسی ممکنہ منصوبے پر گفتگو نہیں کی۔
عہدیدار کے مطابق صدر ٹرمپ نے نیویارک میں اپنی تقریر کے دوران یہ بات مزاحیہ انداز میں کہی تھی اور آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کے معاملے پر کوئی باقاعدہ فیصلہ یا مشاورت نہیں ہوئی۔
برائن شوارٹز کا کہنا ہے کہ وہ خود ٹرمپ کی تقریر کے موقع پر موجود تھے۔ ان کے مشاہدے کے مطابق صدر نے یہ بات کہتے ہوئے مسکراہٹ بھی دی، تاہم بعد میں ان کا انداز ایسا تھا جیسے وہ اپنے بیان کو مکمل طور پر مذاق قرار نہیں دے رہے۔
آبنائے ہرمز کسی ٹویٹ یا حکم سے نہیں لی جا سکتی: ایران
وائٹ ہاؤس کی وضاحت کے بعد ٹرمپ کے بیان کی نوعیت پر پیدا ہونے والی بحث میں نیا رخ سامنے آیا ہے، تاہم آبنائے ہرمز سے متعلق امریکی صدر کے سخت بیانات نے پہلے ہی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں عالمی سطح پر توجہ حاصل کرلی ہے۔
