ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں قائم انقرہ یونیورسٹی کا شعبۂ اردو گزشتہ کئی دہائیوں سے اردو زبان و ادب کی تدریس، تحقیق اور ترویج میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر آئیکُت کشمیر کی سربراہی میں یہ شعبہ نہ صرف اردو کے ادبی ورثے کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کا ذریعہ ہے بلکہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان علمی و تہذیبی تعلقات کو مضبوط بنانے میں بھی اہمیت رکھتا ہے۔
زبان کسی قوم کے خیالات کے اظہار کا ذریعہ ہونے کے ساتھ اس کی تاریخ، تہذیب، اجتماعی یادداشت اور فکری ورثے کی بھی نمائندگی کرتی ہے۔ اردو نے برصغیر میں پروان چڑھنے کے بعد اپنی ادبی خوب صورتی، شاعری اور فکری روایت کے باعث دنیا کے مختلف خطوں میں شناخت حاصل کی۔ ترکیہ میں اردو کی تدریس اور تحقیق کا تسلسل اسی عالمی سفر کی ایک نمایاں مثال ہے۔
انقرہ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کی سربراہی اب پروفیسر ڈاکٹر آئیکُت کشمیر کے سپرد ہے۔ یہ شعبہ یونیورسٹی کی فیکلٹی آف لینگویجز، ہسٹری اینڈ جیوگرافی کے تحت شعبۂ مشرقی لسانیات و ادبیات میں قائم ہے۔ ڈاکٹر کشمیر اردو زبان و ادب، پاکستان کی سماجی و ثقافتی تاریخ اور اردو و ترکی زبانوں کے لسانی و تہذیبی تعلقات پر تحقیق کرتے رہے ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر آئیکُت کشمیر کی علمی خدمات
پروفیسر ڈاکٹر آئیکُت کشمیر نے اپنی اعلیٰ تعلیم انقرہ یونیورسٹی سے حاصل کی۔ انہوں نے 2009ء میں بیچلر، 2011ء میں ماسٹرز اور 2016ء میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری مکمل کی۔ اردو زبان سے ان کی وابستگی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے 2012ء اور 2013ء کے دوران جامعہ پنجاب کے اورینٹل کالج لاہور میں اردو کی تعلیم حاصل کی۔
ان کی تحقیق میں اردو ادب کی ترقی پسند تحریک، قیام پاکستان کے بعد معاشرتی تبدیلیوں اور ان تبدیلیوں کے ادبی اظہار کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ ان کے ماسٹرز کے مقالے میں ترقی پسند ادبی تحریک کا مطالعہ کیا گیا، جبکہ ڈاکٹریٹ کے مقالے میں معروف پاکستانی ناول نگار عبداللہ حسین کے ناولوں میں قیام پاکستان کے بعد پیدا ہونے والے سماجی مسائل کی عکاسی کا جائزہ لیا گیا۔
ڈاکٹر کشمیر نے 2024ء میں جرمنی کی جامعہ ہائیڈل برگ میں پوسٹ ڈاکٹریٹ تحقیق بھی مکمل کی۔ وہ پاکستان میں منعقد ہونے والی مختلف علمی کانفرنسوں میں اپنے تحقیقی مقالات پیش کر چکے ہیں۔ ان کی دلچسپیوں میں اردو ناول میں ہجرت اور اجتماعی یادداشت، علامہ محمد اقبال اور ترک شاعر محمد عاکف ارسوئے کے فکری اشتراکات اور اردو کو غیر ملکی زبان کے طور پر پڑھانے کے طریقے شامل ہیں۔
اساتذہ کی تحقیق اور اردو ادب کا فروغ
انقرہ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کی شناخت میں اس کے اساتذہ کی تدریسی، تحقیقی اور ترجمے سے متعلق خدمات کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ یہ اساتذہ ترکیہ کے طلبہ اور علمی حلقوں کو اردو زبان، پاکستانی ادب اور برصغیر کی تہذیبی روایات سے متعارف کرانے میں مصروف ہیں۔
شعبے کی سابق سربراہ پروفیسر ڈاکٹر آسمان بیلن اوزجان نے اردو نثر، پاکستانی ادب اور تقابلی ادب کے شعبوں میں تحقیقی کام کیا ہے۔ ان کی علمی دلچسپیوں میں احمد ندیم قاسمی، پروین شاکر اور کشور ناہید جیسی ادبی شخصیات کے فن و فکر کا مطالعہ شامل ہے۔ ان کی کتاب ’’مشرقی ثقافت میں بیانیے کی روایت: اردو نثر‘‘ اردو ادب کے ثقافتی اور ادبی پہلوؤں پر ان کی تحقیق کی عکاسی کرتی ہے۔
تعلیم کے شعبے میں ترکیہ کے ساتھ شراکت داری چاہتے ہیں، مریم نواز
ڈاکٹر آسمان بیلن اوزجان نے ترکیہ کی معاصر شاعری کے منتخب کلام کا اردو ترجمہ بھی کیا، جو 2023ء میں لاہور کے اشاعتی ادارے سنگِ میل پبلی کیشنز کے تحت شائع ہوا۔ اس ترجمے کے ذریعے پاکستانی قارئین کو ترکیہ کی جدید شاعری اور ادبی رجحانات سے واقفیت کا موقع ملا۔
ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر داؤد شہباز بھی شعبے کے اہم اساتذہ میں شامل ہیں۔ وہ اردو زبان اور پاکستانی ادب پر تحقیق کے ساتھ انقرہ یونیورسٹی کی فیکلٹی کے ڈپٹی ڈین کی ذمہ داریاں بھی انجام دے رہے ہیں۔ ان کی تحقیق میں اردو نثر میں رومانویت اور پاکستانی شاعرہ پروین شاکر اور اطالوی شاعرہ آلدا میرینی کا تقابلی مطالعہ شامل ہے۔ وہ یونیورسٹی کے علمی جریدے ’’دوعو دِلّری درگیسی‘‘ کے مدیر بھی ہیں۔
اردو کی تدریس اور ترجمے کے جدید طریقے
شعبے میں لیکچرار ڈاکٹر ایمل سِیلم باشاریر اردو قواعد، تحریری اظہار اور ترکی سے اردو ترجمے کی تدریس کے ذریعے طلبہ کی لسانی صلاحیتیں بہتر بنانے میں کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان کی تحقیق میں اردو محاورات اور ضرب الامثال میں عورت کے تصور کا مطالعہ بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ ترکی اور اردو زبانوں کے مشترک لسانی عناصر پر ان کا تحقیقی کام ڈاکٹر آئیکُت کشمیر اور ڈاکٹر ایلف اوجالمش کے ساتھ جاری رہا ہے۔
لیکچرار ڈاکٹر ایلف اوجالمش کی تحقیق کا اہم حصہ اردو کو غیر ملکی زبان کے طور پر پڑھانے کے طریقوں، جنوبی ایشیائی مطالعات اور ثقافتی سفارت کاری سے متعلق ہے۔ وہ اردو کی تدریسی کتابوں، الفاظ کے استعمال اور زبان سکھانے کی حکمت عملیوں پر تحقیق کر چکی ہیں۔
ان کی علمی دلچسپیوں میں عہد عثمانیہ میں اردو رسائل و جرائد اور محمدی بیگم کی ادارت میں شائع ہونے والے رسالے ’’تہذیبِ نسواں‘‘ کا مطالعہ بھی شامل ہے۔ یہ موضوعات اردو صحافت، خواتین کی علمی و ادبی تاریخ اور ترکیہ و برصغیر کے تاریخی روابط کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔
1957ء سے اردو کی تدریس کا تسلسل
انقرہ یونیورسٹی میں اردو زبان کی تدریس کا آغاز 1957ء میں ہوا، جبکہ تعلیمی سال 1961ء-1962ء میں اسے ’’اردو زبان اور مطالعاتِ پاکستان‘‘ کے عنوان سے مستقل شعبے کی حیثیت دی گئی۔ اس طویل تعلیمی روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترکیہ میں اردو کا مطالعہ کئی دہائیوں سے جامعاتی سطح پر جاری ہے۔
یہاں اردو کی تعلیم صرف قواعد، لغت، شاعری اور نثر تک محدود نہیں، بلکہ اس کے ذریعے طلبہ کو پاکستان کی تاریخ، ثقافت، معاشرت اور ادبی تحریکوں کو سمجھنے کا موقع بھی ملتا ہے۔ اسی طرح اردو ادب کا ترکیہ کے علمی حلقوں میں مطالعہ دونوں ممالک کے محققین کے درمیان نئے علمی روابط پیدا کرنے کی گنجائش فراہم کرتا ہے۔
پاکستان کی جامعات کے ساتھ علمی تبادلے، تعاون کے معاہدے اور بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت بھی اس شعبے کی سرگرمیوں کا حصہ ہیں۔ ایسے روابط سے طلبہ اور محققین کو مختلف تعلیمی ماحول سے سیکھنے، تحقیق کے نئے موضوعات تلاش کرنے اور مشترکہ منصوبوں پر کام کرنے کے مواقع ملتے ہیں۔
اردو، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تہذیبی پل
اردو کی عالمی ترویج میں بیرون ملک قائم جامعات کے شعبے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ ادارے نئی نسلوں کو زبان سکھانے کے ساتھ اس کی ادبی، تاریخی اور ثقافتی اہمیت سے بھی روشناس کراتے ہیں۔
انقرہ یونیورسٹی کا شعبۂ اردو پاکستان اور ترکیہ کے درمیان اسی علمی رابطے کی ایک اہم مثال ہے۔ علامہ محمد اقبال اور محمد عاکف ارسوئے کے فکری تقابل، ترکی شاعری کے اردو تراجم، پاکستانی ناولوں میں سماجی مسائل کے مطالعے اور زبان کی جدید تدریسی حکمت عملیوں کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان ادبی و فکری تبادلے کو وسعت دینے کے امکانات موجود ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر آئیکُت کشمیر کی سربراہی میں شعبے کی آئندہ پیش رفت کے لیے مشترکہ تحقیقی منصوبے، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلے، ادبی تراجم کی اشاعت اور جدید تدریسی وسائل اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان اقدامات سے اردو کی تدریس اور تحقیق کو مزید تقویت ملنے کے ساتھ دونوں ممالک کے علمی اداروں کے درمیان تعاون بھی بڑھ سکتا ہے۔
اردو کی اہمیت اس کے کلاسیکی ادبی سرمائے تک محدود نہیں، بلکہ یہ مختلف زبانوں اور تہذیبوں کے درمیان مکالمے کا ذریعہ بھی ہے۔ انقرہ یونیورسٹی میں کئی دہائیوں سے جاری اردو کی تدریس اور اساتذہ کی تحقیقی خدمات اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ زبان و ادب کے ذریعے مختلف معاشروں کے درمیان باہمی فہم، علمی تعاون اور ثقافتی قربت کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
