چین میں 2 پڑوسی خاندانوں کا 200 سال پرانا جائیداد کا تنازع وائرل

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

جائیداد کے تنازعات اکثر برسوں تک عدالتوں میں زیرسماعت رہتے ہیں، لیکن چین میں 2 پڑوسی خاندانوں کے درمیان زمین کی حد کا ایک ایسا معاملہ سامنے آیا ہے جس کی جڑیں 200 سال سے بھی زیادہ پرانی ہیں۔ اس دلچسپ تنازع کی کہانی انٹرنیٹ پر وائرل ہوگئی ہے، جبکہ تاریخی دستاویزات نے اس معاملے کو مزید اہم بنا دیا ہے۔

latest urdu news

کچن کی تعمیر سے شروع ہونے والا تنازع

چینی میڈیا کے مطابق صوبہ شانسی کے شہر شیان میں 2 پڑوسی خاندانوں کے درمیان زمین کی حدود پر اختلاف پیدا ہوا۔ تنازع اس وقت شدت اختیار کرگیا جب ایک شہری، جس کا نام رپورٹ میں ڈیوس بتایا گیا ہے، اپنے کچن کی تزئین و آرائش کے دوران دیوار تعمیر کرنے لگا۔

اس کے پڑوسی زینگ نے اس تعمیر پر اعتراض کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ نئی دیوار سے ان کے گھر میں آنے والی روشنی متاثر ہوگی اور نکاسی آب کے نظام میں بھی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

دونوں خاندانوں کے درمیان اختلاف بڑھتا گیا اور معاملہ تلخ کلامی سے آگے بڑھ کر جسمانی جھگڑوں تک پہنچ گیا۔ پولیس اور مقامی دیہی کمیٹی نے متعدد مرتبہ ثالثی کے ذریعے تنازع حل کرانے کی کوشش کی، لیکن کوئی مستقل حل نہ نکل سکا۔

شہنشاہ کے دور کی دستاویز نے سب کو حیران کردیا

تنازع کے حل کے لیے کی جانے والی ایک کوشش کے دوران زینگ نے زمین کی ملکیت اور حدود سے متعلق ایک قدیم دستاویز پیش کی۔ رپورٹ کے مطابق یہ دستاویز چین کے شہنشاہ چیان لونگ کے دور سے تعلق رکھتی تھی، جنہوں نے 1735 سے 1796 تک حکومت کی۔

دستاویز پر سیاہی سے تحریر موجود تھی اور اسے دونوں خاندانوں کے درمیان زمین کی حدود سے متعلق ایک پرانے معاہدے کا ثبوت قرار دیا گیا۔

زینگ کا مؤقف تھا کہ یہ معاہدہ صرف اس وقت کے خاندانوں تک محدود نہیں تھا بلکہ اس کا اطلاق بعد کی نسلوں پر بھی ہونا چاہیے۔ اس دستاویز سے معلوم ہوا کہ دونوں خاندانوں کے درمیان اختلاف کی تاریخ محض چند سال نہیں بلکہ 2 صدیوں سے بھی زیادہ پرانی ہے۔

جنوبی کوریا میں شارک کا انوکھا رویہ، سمندر میں جانے کے بجائے نہر میں واپس آگئی

تاریخی خط میں پڑوسی کے لیے 3 فٹ زمین چھوڑنے کا مشورہ

رپورٹ کے مطابق عدالت کے لیے صرف 1781 کی دستاویز کی بنیاد پر موجودہ زمین کی حدود کا تعین کرنا ممکن نہیں تھا، اس لیے اس زمانے سے متعلق ایک اور تاریخی دستاویز بھی حاصل کی گئی۔

یہ خط ایک عالم اور سیاسی شخصیت نے اپنے خاندان کے نام لکھا تھا، جس میں اسے پڑوسی کے ساتھ زمین کے تنازع کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کی تلقین کی گئی تھی۔

خط میں سوال اٹھایا گیا تھا کہ آخر پڑوسی کے لیے 3 فٹ زمین کیوں نہیں چھوڑی جاسکتی؟

روایت کے مطابق اس نصیحت کے بعد ایک خاندان نے رضاکارانہ طور پر اپنی دیوار 3 فٹ پیچھے کرلی، جبکہ دوسرے خاندان نے بھی ایسا ہی کیا۔ اس طرح چین کے وسطی علاقے ٹونگ چینگ میں دونوں دیواروں کے درمیان تقریباً 6 فٹ چوڑا راستہ بن گیا، جو بعد میں سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن گیا۔

200 سال پرانا تنازع بالآخر کیسے حل ہوا؟

حالیہ معاملے میں مقامی انتظامیہ نے دونوں گھروں کی پیمائش کی تاکہ ایسا تعمیراتی منصوبہ تیار کیا جاسکے جسے دونوں خاندان قبول کرسکیں۔

رپورٹ کے مطابق اس عمل کے نتیجے میں ڈیوس اپنے کچن کی تزئین و آرائش مکمل کرنے میں کامیاب ہوگیا، جبکہ زینگ نے بھی اس حل کو پرامن طور پر قبول کرلیا۔

یوں زمین کی ایک حد سے شروع ہونے والا تنازع، جو نسل در نسل چلا آرہا تھا، بالآخر افہام و تفہیم اور انتظامی کوششوں کے ذریعے حل ہوگیا۔

یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ بعض اوقات طویل تنازعات کو محض قانونی کارروائی کے بجائے باہمی احترام، سمجھوتے اور پڑوسیوں کے حقوق تسلیم کرنے سے بھی حل کیا جاسکتا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں