غزہ میں صحافیوں کی قربانیاں، 3 سال سے جاری جنگ میں خبر رسانی بھی جان کا خطرہ بن گئی

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

7 اکتوبر 2023 سے غزہ میں جاری جنگ نے زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو متاثر کیا، لیکن صحافیوں کے لیے یہ عرصہ ایک ایسے خطرناک دور میں تبدیل ہوگیا جہاں خبر پہنچانا بھی جان ہتھیلی پر رکھنے کے مترادف بن چکا ہے۔

latest urdu news

بمباری، نقل مکانی، بھوک اور اپنے خاندانوں کے نقصان کے باوجود غزہ کے مقامی صحافی مسلسل دنیا تک وہاں کی صورتحال پہنچاتے رہے۔ ان کی رپورٹنگ نے ایسے مناظر عالمی سطح پر پہنچائے جنہیں دیکھنا شاید بیرونی صحافیوں کی محدود رسائی کے باعث ممکن نہ ہوتا۔

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (CPJ) کے مطابق غزہ کی جنگ صحافیوں کے لیے اب تک کا سب سے مہلک تنازع بن چکی ہے۔ CPJ نے اپریل 2026 تک غزہ میں کم از کم 207 فلسطینی صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی ہلاکت ریکارڈ کی تھی، جبکہ ستمبر 2026 میں اپنے تفصیلی جائزے کے بعد ادارے نے اپنی فہرست میں متعدد ناموں کی درجہ بندی تبدیل کی۔

زخمی ہونے کے باوجود رپورٹنگ، سامر ابو دقہ کی موت

غزہ میں صحافیوں کو پیش آنے والے خطرات کی ایک نمایاں مثال الجزیرہ کے کیمرہ مین سامر ابو دقہ کا واقعہ ہے۔

دسمبر 2023 میں خان یونس میں رپورٹنگ کے دوران سامر ابو دقہ اسرائیلی حملے میں شدید زخمی ہوئے۔ ان کے ساتھی وائل الدحدوح بھی زخمی ہوئے، تاہم سامر ابو دقہ کو کئی گھنٹوں تک طبی امداد نہ مل سکی اور وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئے۔ CPJ نے ان کے واقعے کو غزہ میں صحافیوں کو درپیش شدید خطرات کی مثالوں میں شامل کیا ہے۔

جنوری 2024 میں وائل الدحدوح کے بیٹے حمزہ الدحدوح بھی ایک اسرائیلی حملے میں مارے گئے۔ جولائی 2024 میں الجزیرہ کے رپورٹر اسماعیل الغول اور کیمرہ مین رامی الریفی بھی غزہ میں فیلڈ رپورٹنگ کے دوران ہلاک ہوئے۔

یہ واقعات اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ غزہ میں صحافیوں کے لیے جنگی علاقے میں رپورٹنگ محض پیشہ ورانہ ذمہ داری نہیں رہی بلکہ مسلسل جان کے خطرے کا سامنا بھی بن چکی ہے۔

2025 میں بھی صحافیوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ جاری رہا

2025 کے دوران بھی غزہ میں صحافیوں کے لیے حالات انتہائی خطرناک رہے۔

10 اگست 2025 کو غزہ شہر میں الشفا اسپتال کے قریب صحافیوں کے خیمے کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے میں الجزیرہ کے رپورٹر انس الشریف، محمد قریقع، کیمرہ آپریٹر ابراہیم ظاہر اور محمد نوفل سمیت 6 میڈیا ورکرز ہلاک ہوئے جبکہ دیگر افراد زخمی ہوئے۔ CPJ نے اس حملے کو صحافیوں کے لیے استعمال ہونے والے خیمے پر ایک ہدفی حملہ قرار دیا۔

اسرائیلی فوج نے انس الشریف پر حماس سے وابستگی کے الزامات عائد کیے تھے، تاہم CPJ نے اسرائیلی فوج کی جانب سے پیش کیے گئے بعض مواد کو قابلِ اعتبار نہیں سمجھا۔ CPJ کے مطابق ایسے الزامات کی بنیاد بننے والی بعض دستاویزات اور تصاویر کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

انجلینا جولی نے غزہ کی تباہی کی تصاویر شیئر کردیں، فوری امداد کا مطالبہ

ناصر اسپتال پر حملہ، مزید 5 صحافی ہلاک

25 اگست 2025 کو خان یونس کے ناصر اسپتال پر ہونے والے حملوں میں بھی 5 صحافی ہلاک ہوئے۔ ان میں مریم ابو دقہ، محمد سلامہ، حسام المصری، معاذ ابو طہ اور احمد ابو عزیز شامل تھے۔

CPJ کے مطابق اس حملے میں مجموعی طور پر کم از کم 20 افراد مارے گئے، جبکہ صحافیوں کی ہلاکتیں اس واقعے کا اہم حصہ تھیں۔ ادارے نے اس حملے کو متعدد فضائی حملوں پر مشتمل واقعہ قرار دیا۔

یہ ہلاکتیں اس وقت بھی سامنے آتی رہیں جب صحافی انتہائی مشکل حالات میں اسپتالوں، پناہ گاہوں اور دیگر مقامات سے مسلسل رپورٹنگ کر رہے تھے۔

جنگ بندی کے باوجود خطرات ختم نہ ہوئے

جنگ بندی کے مختلف ادوار کے باوجود غزہ میں صحافیوں کو مکمل تحفظ حاصل نہیں ہوسکا۔ صحافیوں کی گرفتاریوں، دھمکیوں، زخمی ہونے اور ہلاکتوں کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے۔

CPJ کے مطابق 30 ستمبر 2026 تک اسرائیل، مقبوضہ فلسطینی علاقوں اور یروشلم میں جنگ کے آغاز سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی گرفتاریوں کے 118 واقعات بھی دستاویزی شکل میں موجود تھے۔

صحافیوں کی ہلاکتوں کے اعداد و شمار میں مختلف اداروں کے درمیان فرق کی ایک بڑی وجہ تصدیق کا طریقہ کار ہے۔ CPJ اپنے سخت تصدیقی معیار کے تحت ناموں کو اپنی فہرست میں شامل کرتا ہے اور نئی معلومات سامنے آنے پر سابقہ ریکارڈ کا بھی جائزہ لیتا ہے۔ جون 2026 میں CPJ نے اسی عمل کے تحت متعدد افراد کے ریکارڈ کا دوبارہ جائزہ شروع کیا اور بعد میں اپنی فہرست میں تبدیلیاں کیں۔

کیمرے خاموش نہیں ہوئے

غزہ میں صحافیوں نے گزشتہ 3 برس کے دوران اپنے ساتھیوں، اہل خانہ اور گھروں کے نقصان کے باوجود رپورٹنگ جاری رکھی۔

کسی نے اسپتال سے خبر دی، کسی نے ملبے کے درمیان کھڑے ہوکر کیمرہ تھاما اور کسی نے اپنے ہی گھر یا خاندان کے نقصان کے بعد بھی دنیا کو وہاں کی صورتحال سے آگاہ کیا۔

CPJ کے مطابق غزہ کی جنگ صحافیوں کے لیے تاریخ میں ریکارڈ کیا گیا سب سے مہلک دور بن چکی ہے۔ اپریل 2026 تک ادارے نے کم از کم 207 فلسطینی صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی ہلاکت دستاویزی طور پر ریکارڈ کی تھی، جبکہ اس نے کم از کم 32 افراد کے ایسے کیسز کی بھی نشاندہی کی جنہیں اس کے جائزے کے مطابق ان کے صحافتی کام کے ردعمل میں براہ راست نشانہ بنایا گیا۔

تین سال سے جاری اس جنگ میں غزہ کے صحافیوں کی قربانیاں صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ اس انسانی المیے کا ایک اہم باب ہیں۔ ان کی رپورٹنگ نے جنگ کے ایسے لمحات دنیا کے سامنے محفوظ کیے جو شاید ان کی موجودگی کے بغیر کبھی ریکارڈ ہی نہ ہو پاتے۔

خطرات اور ہلاکتوں کے باوجود غزہ کے متعدد صحافی آج بھی کیمرے اور مائیک کے ذریعے وہاں کی صورتحال دنیا تک پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں