مصر میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے ایک اہم دریافت کرتے ہوئے صحرا میں صدیوں پرانا ایک شہر دریافت کیا ہے، جس کا تعلق چوتھی صدی عیسوی کے بازنطینی دور سے بتایا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس دریافت سے نہ صرف اس دور کی شہری زندگی، مذہبی سرگرمیوں اور تعمیراتی انداز کے بارے میں نئی معلومات حاصل ہوں گی بلکہ اس وقت کے معاشی اور سماجی نظام کو بہتر انداز میں سمجھنے میں بھی مدد ملے گی۔
مصری وزارتِ سیاحت و آثارِ قدیمہ نے اس دریافت کو ملک کے تاریخی ورثے کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
نیو ویلی کے صحرا میں قدیم شہر کی دریافت
مصری وزارتِ سیاحت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ قدیم شہر مصر کے مغربی صوبے نیو ویلی کے ایک صحرائی نخلستان میں دریافت ہوا ہے۔ آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک منظم شہری آبادی تھی، جہاں رہائشی عمارتوں کے ساتھ مذہبی، عوامی اور دفاعی ڈھانچے بھی موجود تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شہر کی منصوبہ بندی انتہائی منظم انداز میں کی گئی تھی۔ مختلف علاقوں کو کشادہ شاہراہوں کے ذریعے آپس میں جوڑا گیا تھا، جبکہ چوراہے اور عوامی مقامات بھی تعمیر کیے گئے تھے، جو اس دور کی شہری منصوبہ بندی کا واضح ثبوت ہیں۔
گرجا گھر اور دفاعی ڈھانچوں کے آثار
دریافت ہونے والے شہر کے وسط میں ایک گرجا گھر کے آثار ملے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس دور میں مسیحی مذہبی سرگرمیاں شہر کی سماجی زندگی کا اہم حصہ تھیں۔
اس کے علاوہ دو واچ ٹاورز کے آثار بھی دریافت ہوئے ہیں، جن کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ انہیں شہر کے دفاع اور نگرانی کے لیے تعمیر کیا گیا تھا۔ ایک بڑی عمارت بھی سامنے آئی ہے، جس کے گرد مضبوط اور موٹی حفاظتی دیواریں موجود ہیں، جبکہ متعدد گھروں میں استقبالیہ ہال اور محرابی چھتیں بھی ملی ہیں، جو اس دور کے تعمیراتی فن کی عکاسی کرتی ہیں۔
20 برس کی محنت کے بعد مصر میں اربوں ڈالر لاگت سے فرعونی تاریخ کا سب سے بڑا میوزیم کھل گیا
سکے، برتن اور روزمرہ استعمال کی اشیا
کھدائی کے دوران ماہرین کو کانسی اور سونے کے سکے، مٹی کے برتن، چولہے، باورچی خانے کے آثار، پیسنے کے اوزار اور دیگر گھریلو اشیا بھی ملی ہیں۔ ان دریافتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ شہر میں باقاعدہ معاشی سرگرمیاں اور روزمرہ زندگی کا ایک منظم نظام موجود تھا۔
دریافت ہونے والے کانسی کے سکوں پر بازنطینی شہنشاہوں کی تصاویر، لاطینی زبان کے الفاظ اور مسیحی علامات نقش ہیں، جبکہ سونے کے بعض سکوں پر رومی شہنشاہ قسطنطینوس دوم کے دورِ حکومت کا ذکر موجود ہے، جو 337 سے 361 عیسوی کے درمیان حکمران رہے تھے۔ یہ سکے ماہرین کو اس شہر کی تاریخی مدت کے تعین میں بھی مدد فراہم کریں گے۔
18 تاریخی مقبرے بھی دریافت
اسی دوران ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے اسکندریہ کے مغرب میں تقریباً 62 میل کے فاصلے پر 18 قدیم مقبرے بھی دریافت کیے ہیں۔ ان میں سے 11 مقبرے چٹانوں کو تراش کر بنائے گئے تھے، جبکہ 7 مقبرے چونے کے پتھروں سے تعمیر کیے گئے۔
ان مقبروں سے مٹی کے گھڑے، چراغ، پلیٹیں اور چونے کے پتھر سے تیار کردہ مختلف برتن بھی برآمد ہوئے ہیں، جو اس دور کے تدفینی رسوم اور روزمرہ زندگی کے بارے میں اہم معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔
تاریخی اہمیت
ماہرین کے مطابق یہ دریافت بازنطینی دور میں مصر کی شہری ترقی، مذہبی زندگی، تجارت اور دفاعی نظام کو سمجھنے میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ قدیم شہر اور تاریخی مقبروں سے حاصل ہونے والے آثار مستقبل میں مزید تحقیق کے لیے قیمتی شواہد فراہم کریں گے، جس سے مصر کی قدیم تہذیب اور اس کے ارتقا کے بارے میں نئی معلومات سامنے آنے کی توقع ہے۔
