دنیا کا پیدل سفر مکمل، 28 سال تک دنیا بھر میں چلتا رہا

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

برطانیہ سے تعلق رکھنے والے کارل بشبائی نے دنیا کے گرد پیدل سفر کا حیران کن کارنامہ 28 سال بعد مکمل کرلیا۔ انہوں نے 1998 میں 29 سال کی عمر میں یہ سفر شروع کیا تھا اور اب 57 برس کی عمر میں انگلینڈ میں اپنی والدہ کے گھر پہنچ کر منزل حاصل کرلی۔

latest urdu news

عام طور پر لوگ دنیا کی سیر کے لیے ہوائی جہاز، بحری جہاز، گاڑیوں یا ٹرینوں کا استعمال کرتے ہیں، لیکن کارل بشبائی نے دنیا کا چکر لگانے کے لیے پیدل سفر کا انتخاب کیا۔ اس طویل مہم کے دوران انہیں مختلف براعظموں، صحراؤں، جنگلات، برفانی علاقوں اور سمندری راستوں سمیت کئی مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا۔

چلی سے شروع ہونے والا سفر برطانیہ میں مکمل

کارل بشبائی نے 1998 میں چلی سے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا، جس کا اختتام انگلینڈ کے علاقے ہل میں اپنی والدہ کے گھر پہنچ کر ہوا۔

28 سالہ اس مہم کے دوران وہ دنیا کے تمام براعظموں سے گزرے۔ انہوں نے آبنائے بیرنگ کے برفیلے علاقے سے سفر کیا، جبکہ بحیرہ قزوین اور انگلش چینل کو تیر کر عبور کیا۔ اپنے سفر کا زیادہ تر حصہ انہوں نے خشکی پر پیدل چلتے ہوئے مکمل کیا۔

اس دوران انہیں خطرناک جنگلات، بارانی جنگلوں، وسیع صحراؤں اور منجمد علاقوں سے گزرنا پڑا۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ اس طویل سفر میں ان کے قدموں کی تعداد ساڑھے 7 کروڑ تک ہوسکتی ہے، تاہم اس کی حتمی تعداد معلوم نہیں۔

پانچ سال کا منصوبہ 28 سال تک کیسے پہنچا؟

کارل بشبائی نے بتایا کہ جب انہوں نے سفر شروع کیا تو ان کا خیال تھا کہ وہ دنیا کا چکر تقریباً 5 سال میں مکمل کرلیں گے، لیکن مختلف مشکلات کے باعث یہ مدت پہلے 12 سال تک پہنچی اور پھر بڑھتے بڑھتے 28 سال ہوگئی۔

ان کے مطابق انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ یہ مہم اتنی طویل ہوجائے گی۔ اس طرح وہ 10 ہزار 200 سے زائد دن تک اس سفر میں مصروف رہے۔

دبئی: غلط جگہ سے سڑک پار کرنے پر 400 درہم جرمانہ ہوگا، پولیس کا انتباہ

روس میں قید اور بحیرہ قزوین تیر کر عبور کیا

اس سفر کا ایک مشکل مرحلہ روس میں پیش آیا، جہاں جغرافیائی اور سرحدی مسائل کے علاوہ سخت موسم نے بھی ان کی پیش رفت متاثر کی۔ روس کو عبور کرنے میں انہیں تقریباً 10 سال لگے۔ وہاں انہیں قید کا سامنا بھی کرنا پڑا، جبکہ روس کے سخت موسمی حالات کے باعث ہر سال صرف چند ماہ ہی پیدل سفر ممکن ہوتا تھا۔

روس اور ایران کے درمیان جغرافیائی تنازع کے باعث جب ان کا راستہ متاثر ہوا تو انہوں نے بحیرہ قزوین کو تیر کر عبور کرنے کا فیصلہ کیا۔ دنیا کی سب سے بڑی جھیل سمجھے جانے والے اس آبی ذخیرے کو انہوں نے 31 دن میں عبور کیا، تاہم غیر قانونی طور پر اسے پار کرنے پر انہیں وہاں سے بے دخل بھی کردیا گیا۔

طویل سفر میں ذاتی زندگی بھی متاثر ہوئی

کارل بشبائی کے مطابق اس طویل مہم کے دوران ان کی ذاتی زندگی بھی مختلف تجربات سے گزری۔ اس عرصے میں وہ 2 مرتبہ محبت میں گرفتار ہوئے، لیکن دونوں بار انہیں دل ٹوٹنے کا سامنا کرنا پڑا۔

بالآخر 28 سال کی مسلسل جدوجہد، مشکلات اور غیر معمولی سفر کے بعد وہ اپنی منزل پر پہنچ گئے۔ ان کی یہ مہم اس بات کی مثال ہے کہ ایک بظاہر ناممکن دکھائی دینے والا منصوبہ طویل عرصے کی ثابت قدمی اور مسلسل کوشش سے مکمل کیا جاسکتا ہے۔

شیئر کریں:

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

ہمیں فالو کریں